ملک بھر میں بم کی دھمکیوں کے ذریعے دہشت پھیلانے والا شخص گرفتار
نئی دہلی، 30 مارچ (ہ س)۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اسکولوں، ہائی کورٹس اور سرکاری دفاتر کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکیاں دے کر دہشت پھیلا نے والے ملزم کو دہلی پولیس نے کرناٹک کے میسور سے گرفتار کیا ہے ۔ گرفتار ملزم کی شناخت 47 سالہ سری نواس لیوس کے طور
Special-Cell-Arrests-Accused-R


نئی دہلی، 30 مارچ (ہ س)۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اسکولوں، ہائی کورٹس اور سرکاری دفاتر کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکیاں دے کر دہشت پھیلا نے والے ملزم کو دہلی پولیس نے کرناٹک کے میسور سے گرفتار کیا ہے ۔ گرفتار ملزم کی شناخت 47 سالہ سری نواس لیوس کے طور پر کی گئی ہے۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے کرناٹک پولیس کی مدد سے ملزم کو میسور کے ورنداون لے آؤٹ میں واقع ایک مکان سے گرفتار کیا۔ ملزم کے قبضے سے ایک لیپ ٹاپ اور متعدد سم کارڈز برآمد ہوئے جنہیں تفتیش کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے پیر کو بتایا کہ مقامی عدالت میں پیش کرنے کے بعد ملزم کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر دہلی لایا جا رہا ہے، جہاں اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم اب تک تقریباً 1100 دھمکی آمیز ای -میلز بھیج چکا ہے۔ اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے مختلف مقامات اور ذرائع کا استعمال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے دہلی ہائی کورٹ کے جج کو دھمکی آمیز ای میل بھی بھیجا، جس کے بعد مقدمہ درج کرکے تکنیکی تحقیقات شروع کی گئی۔ کئی ہفتوں کی تفتیش کے بعد پولیس ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ دوران تفتیش اس نے دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے کا اعتراف کیا۔

تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا کہ ملزم بنگلورو کا رہنے والا ہے اور پوسٹ گریجویٹ ہے، لیکن فی الحال بے روزگار ہے۔ وہ اپنی ریٹائرڈ ماں کے ساتھ رہتا ہے اور اس کی پنشن کے ذریعے گھر کے اخراجات پورے ہوتے یں ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم نے ذہنی تناو¿ کی وجہ سے یہ حرکت کی ہو گی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر اسکولوں، کالجوں اور عدالتوں کو نشانہ بنایا تاکہ زیادہ سے زیادہ دہشت پھیلائی جاسکے۔ اس کی جھوٹی دھمکیوں کی وجہ سے کئی مقامات پر سیکورٹی سخت کرنی پڑی اور احتیاطاًلوگوں کو باہر نکالنا پڑا جس سے معمول کی کارروائیوں میں خلل پڑا۔

پولیس فی الحال اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس سازش میں ملزم اکیلا تھا یا اس میں اور بھی شامل تھے۔ وہ تمام متاثرہ مقامات کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لیے مختلف ریاستوں میں ایجنسیوں کے ساتھ بھی رابطہ کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande