
واشنگٹن، 30 مارچ (ہ س)۔ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن کے پہلے انسان بردار مشن ’آرٹیمس II‘ کے چار خلاباز مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ مشن یکم اپریل کو شروع ہونا ہے۔ چار خلابازوں - کمانڈر ریڈ وائزمین، پائلٹ وکٹر گلوور، مشن کے ماہرین کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن نے کہا کہ وہ اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا”ہم اس تاریخی لانچ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔“
ناسا (نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن) کے مطابق، 49 گھنٹے اور 40 منٹ کا الٹی گنتی باضابطہ طور پر31 مارچ کو ہندوستانی وقت کے مطابق پیر کی رات (مشرقی وقت کے مطابق 4:44 بجے)شروع ہونا ہے۔ اگر سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق ہوتا ہے، تو راکٹ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے یکم اپریل کوشام 6:24 بجے (شمالی ڈے لائٹ وقت کے مطابق)روانہ ہو جائے گا۔ کمانڈر وائزمین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی ٹیم اور راکٹ دونوں مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ذہنی طور پر کسی بھی صورت حال (جیسے تکنیکی وجوہات کی وجہ سے لانچ میں تاخیر) کے لیے 100 فیصد تیار ہیں۔
آرٹیمس II مشن کا مقصد انسانوں کو 50 سال سے زائد عرصے کے بعد دوبارہ چاند کے قریب لانا ہے۔ یہ مشن 1972 میں اپولو 17 کے بعد چاند پر جانے والا پہلا انسان بردار مشن ہے۔ یہ چاند کے گرد ایک”فلائی بائی“ (چکر لگانا) کاکرے گا۔ یہ چاند کی سطح پر نہیں اترے گا، بلکہ اس کے بجائے مستقبل کے آرٹیمس III کے لیے نظام کی جانچ کرے گا۔ یہ تقریباً 10 دن کا سفر ہوگا۔ عملہ اورین کیپسول (خلائی جہاز) میں سفر کرے گا۔ یہ مشن ناسا کو خلابازوں کے ساتھ اورین کے لائف سپورٹ سسٹم کی جانچ کرنے کی اجازت دے گا۔
چار وںخلاباز - کمانڈر ریڈ وائزمین، پائلٹ وکٹر گلوور، مشن کے ماہرین کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن - جمعہ کو ہیوسٹن سے کینیڈی اسپیس سینٹر پہنچ چکے ہین۔ طبی قرنطینہ کے دوران، انہوں نے اتوار کو ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ وائز مین 2019-20 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے اپنے 328 روزہ مشن کے دوران چھ بار خلائی چہل قدمی کر چکے ہیں۔ وائز مین نے کہا، ”یہ پہلی بار ہے جب ہم انسانوں کو اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔ یہ سب ایک خواب کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ مجھے سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہاں آ کر اچھا لگتا ہے۔“ دریں اثنا، ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسم کے ٹھیک رہنے کا 80 فیصد امکان ہے۔
گراو¿نڈ سسٹمز مینیجر شان کوئن نے کہا” اگر چاروں بدھ کی دو گھنٹے کی لانچ ونڈو کے آغاز ہوتے ہی پرواز بھرتے ہیں تو وہ زمین سے اتنی دور جائیں گے ، جہاں ان سے پہلے کوئی انسان نہیں گیا۔ وہ 252,799 میل کا فاصلہ طے کریں گے جو کہ 1970 میں اپولو 13 کے عملے کے قائم کردہ ریکارڈ سے تقریباً 4,144 میل زیادہ ہے۔ یہ اگلے سال زمین کے مدار میں پرواز کی راہ ہموار کرے گا۔ ناسا کا ارادہ ہے کہ اس پرواز کے بعد، 2028 میں چاند پر ایک یا دو لینڈنگ کی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد