
واشنگٹن، 29 مارچ (ہ س)۔ 3500 اضافی امریکی فوجی مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان فوجیوں کو یو ایس ایس ترپولی میں سوار کر کے بھیجا گیا ہے۔ یہ سب 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کا حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے اور ہتھیار بھی بھیجے گئے ہیں۔ امریکا نے ایران کے خلاف زمینی فوجی آپریشن شروع کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
چین کی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ 3500 میرینز اور ملاحوں کی ایک ٹاسک فورس جمعہ کو مشرق وسطیٰ پہنچی۔ کمانڈ نے ایکس پر ایک مختصر پوسٹ میں کہا، یو ایس ایس ترپولی (ایل ایچ اے 7) پر سوار امریکی ملاح اور میرینز 27 مارچ کو کمانڈ کے ذمہ داری کے علاقے میں پہنچے۔ پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ان فوجیوں کے ساتھ نقل و حمل، اسٹرائیک فائٹر ہوائی جہاز، اور امفیبیئس حملہ اور حکمت عملی کے وسائل بھی ہیں۔
آن لائن امریکی نیوز پورٹل Ynetnews.com نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ یہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے متعلق امریکی فوجی توسیع کا حصہ ہے۔ اس میں سمندری حملہ اور زمینی دونوں کارروائیوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والی قوتیں شامل ہیں۔ اس طرح کے یونٹس کو عام طور پر تیزی سے تعیناتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بشمول اسٹریٹجک مقامات کو محفوظ بنانا، لوگوں کو نکالنا، یا ممکنہ طور پر ساحلی اہداف پر حملہ کرنا۔
قبل ازیں جمعرات کو وال سٹریٹ جرنل نے اطلاع دی تھی کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں 10,000 اضافی زمینی فوجیوں کو تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے۔ محکمہ دفاع کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فورس، جس میں ممکنہ طور پر پیدل فوج اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہوں گی، 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے تقریباً 5000 میرینز اور ہزاروں پیرا ٹروپرز کو شامل کرے گی جنہیں پہلے ہی خطے میں بھیجنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون ایران میں طویل مدتی زمینی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں ہزاروں امریکی فوجی اور میرینز پہنچ رہے ہیں۔
وائٹ ہاو¿س کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف تباہی پھیلانے کے لیے تیار ہیں اگر تہران کی قیادت نے اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کیا اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کو دھمکیاں دینا بند نہیں کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی