
مونگیر،29مارچ(ہ س)۔ بہار کے مونگیر ضلع میں ہفتہ کے روز آئے تیز آندھی اور طوفان اورموسلا دھار بارش نے کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ ضلع کے مختلف علاقوں میں 200 ایکڑ سے زائد پر پھیلی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ مکئی کی فصلوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا جبکہ گیہوں، دال اور چنے کی فصلیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ اس قدرتی آفت نے کسانوں کے لیے سنگین مالی بحران پیدا کر دیا ہے۔
تیز آندھی اور بارش کے باعث کھیتوں میں کھڑی فصلیں لمحوں میں تباہ ہو گئیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اس آفت نے فصل کی کٹائی سے پہلے ہی ان کی تمام امیدیں چکنا چور کر دیں۔ کئی کسانوں نے اپنی فصلیں اگانے کے لیے قرض لیا تھا اور اب فصل کے نقصان سے انہیں قرض کی ادائیگی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
مقامی کسان بمبم یادو نے وضاحت کی کہ ان کے لیے فصلیں صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ ان کے خاندان اور اپنے بچوں کے مستقبل کی کفالت کا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے زمین کاشت کرنے کے لیے قرض لیا اور اب قرض کی واپسی بھی مشکل ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر متاثرہ کھیتوں کا سروے کر کے مناسب معاوضہ فراہم کرے۔
ببلو کمار، روی گپتا، وشال یادو، ولاس یادو، شری رام سنگھ، آزاد سنگھ، سیارام سنگھ، شمبھو چودھری، ڈومی سنگھ، اور ہری شنکر چودھری سمیت درجنوں کسانوں نے بتایا کہ آندھی اور شدید بارش نے تقریباً 200 ایکڑ پر پھیلی مکئی کی فصل کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فصل اچھی حالت میں تھی لیکن قدرتی آفت نے سب کچھ تباہ کر دیا۔
گذشتہ 10 دنوں میں یہ دوسری بار ہے جب آندھی اور بارش نے مونگیر کے کسانوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان مسلسل نقصانات نے کسانوں کو مفلوج کر کے انہیں شدید مالی بحران میں ڈال دیا ہے۔ کئی کسانوں کے پاس اب اپنی اگلی فصل بونے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔
متاثرہ کسان اب ضلع انتظامیہ اور ریاستی حکومت سے فوری راحت اور مناسب معاوضے کی امید کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کیا جائے اور معاوضے کی رقم براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں منتقل کی جائے، تاکہ وہ اس بحران پر قابو پاسکیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan