جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے تین اہم بلوں کو صوتی ووٹ سے منظور کیا
جموں, 29 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے تین اہم بلوں کو صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا، جو خطے میں طرزِ حکمرانی میں اصلاحات، سماجی مساوات اور عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔یہ بل وزیر اعلیٰ عمر عب
Speaker


جموں, 29 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے تین اہم بلوں کو صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا، جو خطے میں طرزِ حکمرانی میں اصلاحات، سماجی مساوات اور عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔یہ بل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے، جنہیں بعد ازاں اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا۔ایوان نے ایل اے بل نمبر 01 کو منظور کیا، جس کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے معمولی جرائم کو غیر مجرمانہ بنانا اور ان کو معقول بنانا ہے، تاکہ اعتماد پر مبنی حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے اور جموں و کشمیر میں رہن سہن اور کاروبار کو آسان بنایا جا سکے۔

اسمبلی نے ایل اے بل نمبر 02 کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد جذام (کوڑھ) سے متاثرہ افراد کے خلاف امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس قانون کے تحت مساوی سلوک کو یقینی بنایا جائے گا، امتیازی دفعات کو ختم کیا جائے گا اور حکومت کو مثبت اقدامات کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا اختیار ملے گا۔اس کے علاوہ، ایوان نے ایل اے بل نمبر 03 بھی منظور کیا، جس کے تحت جموں و کشمیر سول کورٹس ایکٹ 1977 میں ترامیم کی جائیں گی، تاکہ عدالتی نظام کی کارکردگی اور افادیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ تینوں بل غور و خوض کے بعد صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کیے گئے۔

اس سے قبل، اراکین اسمبلی سیف اللہ میر، نظام الدین بھٹ اور بلونت سنگھ منکوٹیا کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی کے بعد واپس لے لی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande