
جموں, 29 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے ہفتہ کے روز اسمبلی میں انکشاف کیا کہ سال 2022 کے بعد سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کل 3,192 اسکول ایسے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد 10 سے کم یا بالکل صفر ہے، جبکہ ان اسکولوں میں 2,518 اساتذہ تعینات ہیں۔یہ معلومات وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بی جے پی کے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا کے سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں، جس میں ڈویژن وائز ایسے اسکولوں اور عملے کی تفصیلات پیش کی گئیں۔اعداد و شمار کے مطابق جموں ڈویژن میں 1,494 اسکول ایسے ہیں جہاں داخلہ 10 سے کم یا صفر ہے، جن میں 1,934 اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ کشمیر ڈویژن میں 1,698 اسکول ایسے ہیں جہاں 584 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔جموں ڈویژن میں کٹھوعہ ضلع ایسے اسکولوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے جہاں 508 اسکولوں میں داخلہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے بعد ادھم پور (188)، راجوری (174)، ریاسی (161) اور جموں (130) کا نمبر آتا ہے۔ دیگر اضلاع میں ڈوڈہ (111)، کشتواڑ (89)، سانبہ (60)، رام بن (56) اور پونچھ (17) شامل ہیں۔
کشمیر ڈویژن میں بارہمولہ 396 اسکولوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد شوپیان (270)، کپواڑہ (228)، اننت ناگ (168)، بانڈی پورہ (156)، گاندربل (138)، پلوامہ (102)، بڈگام (96)، سری نگر (90) اور کولگام (54) شامل ہیں۔
وزیر تعلیم نے مالی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کم داخلہ والے اسکولوں پر تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سال 2019 کے بعد سے اب تک جموں و کشمیر میں 1,732 سرکاری اسکول بند یا ضم کیے جا چکے ہیں، جن میں 1,427 جموں ڈویژن اور 305 کشمیر ڈویژن میں شامل ہیں۔جموں ڈویژن میں سب سے زیادہ اسکول جموں ضلع میں (517) بند یا ضم کیے گئے، اس کے بعد کٹھوعہ (238)، سانبہ (125)، ڈوڈہ (113)، پونچھ (103)، راجوری (98)، ادھم پور (81)، کشتواڑ (72)، ریاسی (61) اور رام بن (19) شامل ہیں۔کشمیر ڈویژن میں بارہمولہ (66) سرفہرست رہا، اس کے بعد گاندربل (46)، کپواڑہ (44)، شوپیان (34)، اننت ناگ (32)، بانڈی پورہ (27)، پلوامہ (17)، بڈگام (16)، سری نگر (14) اور کولگام (9) شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران حکومت نے تنخواہوں کی مد میں کل 13,816.66 کروڑ روپے خرچ کیے، جن میں سے 13,770 کروڑ روپے جموں ڈویژن اور 46.66 کروڑ روپے کشمیر ڈویژن میں خرچ ہوئے۔
اضلاع کے لحاظ سے ادھم پور میں سب سے زیادہ 2,600 کروڑ روپے تنخواہوں پر خرچ ہوئے، اس کے بعد راجوری (1,925.70 کروڑ روپے)، کٹھوعہ (1,830 کروڑ روپے) اور ڈوڈہ (1,680.77 کروڑ روپے) شامل ہیں، جبکہ کشمیر ڈویژن میں بارہمولہ میں سب سے زیادہ 9.54 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر