
تہران، 29 مارچ (ہ س)۔ ایران کی متعدد یونیورسٹیوں پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع اسرائیلی اور امریکی یونیورسٹیوں پر حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ملک پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ بوشہر صوبے اور خوزستان صوبے میں ہوئے حملے کا ہر حال میں بدلہ لیا جائے گا۔
الجزیرہ چینل کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے بوشہر صوبے میں کیے گئے حملے میں ایک خاندان کے چار افراد ہلاک ہو گئے۔ دونوں ممالک نے خوزستان صوبے میں پانی کی ایک تنصیب پر حملہ کیا اور ایران کے تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں، تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع اسرائیلی اور امریکی یونیورسٹیوں پر جوابی حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری طرف، یمن کے حوثی باغیوں نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرون سے حملہ کیا ہے۔ گذشتہ 24 گھںتے کے دوران حوثیوں نے دوسری مرتبہ اسرائیل
پر میزائل داغا ہے۔
دریں اثنا اسرائیل کے تل ابیب اور امریکی شہروں میں مظاہرین ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے کے لیے ریلیاں نکال رہے ہیں۔ وہیں، لبنان میں لوگ اسرائیل کے حملے میں تین صحافیوں کے مارے جانے کے خلاف بیروت کی سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ایران کے جوابی حملوں سے اسرائیل اور خلیجی خطے میں جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ ایلومینیم بحرین اور ایمریٹس گلوبل ایلومینیم نے اپنی تنصیبات پر حملے ہونے کی اطلاع دی ہے۔
ایران کے پریس ٹی وی نے کہا کہ ہفتہ کو حملے میں اسرائیلی ریڈار سینٹر اور ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایرانی فوج اور مشرقِ وسطیٰ میں تہران کے حلیفوں نے مشترکہ طور پر کیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو مار گرایا اور ایک ایف-16 لڑاکا طیارے کو بھی نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے حیفہ بندرگاہ شہر میں اسرائیلی فوجی ایرواسپیس کمپلیکس میں واقع ایک الیکٹرانک جنگ اور ریڈار سینٹر کو نشانہ بنایا۔ اس سینٹر کو اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی چلاتی ہے؛ ساتھ ہی ڈیوڈ بن گوریان ایئرپورٹ پر ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن