کسانوں پر ناانصافی برداشت نہیں، قرض کی وصولی کی تاریخ بڑھے، گندم کی خریداری فوراً شروع ہو: کنال چودھری
بھوپال، 29 مارچ (ہ س)۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی کنال چودھری نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ صوبائی کانگریس دفتر میں اتوار کو منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں کسانوں کے
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی کنال چودھری


بھوپال، 29 مارچ (ہ س)۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی کنال چودھری نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ صوبائی کانگریس دفتر میں اتوار کو منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں کسانوں کے لیے ”سر پر لاٹھی، پیٹ پر لات اور چھاتی پر گولی“ جیسی ثابت ہو رہی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کی بدحالی کی ایک بڑی وجہ حکومتوں کے ”جھوٹے وعدے“ ہیں۔ کنال چودھری نے کسانوں کی سوسائٹی سے قرض کی وصولی کی آخری تاریخ فوری طور پر بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 28 مارچ کی ڈیڈ لائن طے کرنا کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے ہی معاشی بحران جھیل رہے کسان پر یہ اضافی بوجھ ڈالنا غیر انسانی ہے۔

انہوں نے گندم کی خریداری میں تاخیر کے حوالے سے حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ خریداری 16 مارچ سے شروع ہونی تھی، لیکن اسے بڑھا کر یکم اپریل کر دیا گیا۔ اس سے کسان اپنی فصل اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اندور اور اجین ڈویژن میں اب تک سلاٹ بکنگ نہ ہونا اور باردانہ (بوریاں) کی کمی کو انہوں نے حکومت کی بڑی ناکامی قرار دیا۔ چودھری نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت یکم اپریل سے بھی خریداری شروع نہیں کرے گی اور تاریخ آگے بڑھا کر کسانوں کو کم قیمت پر فصل بیچنے کے لیے مجبور کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے 2700 روپے فی کوئنٹل گندم خریدنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن کسان کو 1800 سے2000 روپے میں ہی فصل بیچنی پڑ رہی ہے۔ 40 روپے بونس کو انہوں نے ”کسانوں کے ساتھ دھوکہ“ قرار دیا۔ کسانوں کی آمدنی آٹھ گنا بڑھنے کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی مثال ہے تو حکومت اسے عام کرے۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بھاری بجلی کے بلوں کی وجہ سے کسانوں کے ٹریکٹر اور بائیک ضبط کیے جا رہے ہیں۔ وہیں ڈیزل کی قلت پر انہوں نے کہا کہ کسانوں کو 2000 روپے سے زیادہ کا ڈیزل نہیں مل رہا، جس سے وہ کھیتی چھوڑ کر لائنوں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ چودھری نے مرکزی حکومت کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں کو مہنگائی بڑھانے والا بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا براہِ راست اثر کسانوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت گندم کی خریداری کے بجائے وصولی پر زیادہ توجہ دے رہی ہے، جبکہ صفر فیصد سود کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قرض کی وصولی کی تاریخ نہیں بڑھائی گئی اور گندم کی خریداری فوری شروع نہیں ہوئی، تو ریاست کا کسان اور کانگریس پارٹی سڑکوں پر اتر کر زبردست احتجاج کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande