
ممبئی، 29 مارچ (ہ س)۔ ناسک ضلع عدالت کے تعطیلاتی جج نے ناسک عصمت دری معاملے کے ملزم اشوک کھرات کی پولیس کسٹڈی یکم اپریل تک بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ 29 مارچ کو سماعت کے دوران پولیس نے عدالت سے ملزم کی کسٹڈی میں تین دن کی توسیع کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے چار دن کی توسیع منظور کر لی۔ تفتیشی افسر کے مطابق، اس کیس میں اشوک کھرات کو 18 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے ابتدائی طور پر اسے 24 مارچ تک پولیس کسٹڈی میں بھیجا تھا، بعد ازاں اس میں توسیع کرتے ہوئے 29 مارچ تک بڑھایا گیا تھا۔ کسٹڈی ختم ہونے پر سہکار واڑا پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا، جہاں تفتیشی افسر کیرن سوریہ ونشی بھی موجود تھے۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں ضبط کیے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور پستول پیش کیے گئے ہیں۔ موبائل ڈیٹا ریکور کیا جا چکا ہے، تاہم اس میں محفوظ نمبرز اور رابطوں کی تفصیلات جاننے کیلئے مزید تفتیش ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کو دیے گئے پانی اور پیڑے، نیز ملزم کی جائیداد کی بھی جانچ باقی ہے، اس لیے پولیس کسٹڈی میں توسیع ضروری ہے۔دوسری جانب دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ پستول لائسنس یافتہ ہے اور تمام دستاویزات پہلے ہی پولیس کے حوالے کیے جا چکے ہیں، لہٰذا مزید کسٹڈی کی ضرورت نہیں۔ متاثرہ فریق کے وکیل ایم وائی کالے نے عدالت میں کہا کہ ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا، اس لیے مزید کسٹڈی ناگزیر ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم اشوک کھرات کی پولیس کسٹڈی چار دن بڑھاتے ہوئے اسے یکم اپریل تک برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے