کانگریس کا الزام، محکمہ آبی وسائل میں 19.12 کروڑ کا گھوٹالہ، بی جے پی حکومت جواب دے
بھوپال، 29 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے محکمہ آبی وسائل میں سامنے آئے 19.12 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کو لے کر بی جے پی حکومت پر تیکھا حملہ بولا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی
ایم پی: کانگریس ریاستی صدر جیتو پٹواری (فائل فوٹو)


بھوپال، 29 مارچ (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے محکمہ آبی وسائل میں سامنے آئے 19.12 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کو لے کر بی جے پی حکومت پر تیکھا حملہ بولا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی ہے اور اب آبپاشی کے منصوبے بھی اس سے اچھوتے نہیں رہے۔

پٹواری نے اتوار کو کہا کہ محکمانہ افسران کے ذریعے غلط حساب کتاب، من مانے بنیاد مہینوں کا انتخاب اور انڈیکس میں ہیرا پھیری کر کے ٹھیکیداروں کو کروڑوں روپے کی اضافی ادائیگی کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے مختلف اضلاع کے منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

سنگرولی: ریہند مائیکرو آبپاشی منصوبے میں 8.95 کروڑ روپے کی اضافی ادائیگی۔

شہڈول: بھنی مائیکرو منصوبے میں 3.14 کروڑ روپے کی بے ضابطگی۔

دموہ: گریوٹی ڈیم کی تعمیر میں 2.46 کروڑ روپے کا گھپلا۔

ڈنڈوری: مرکی منصوبے میں 2.27 کروڑ روپے کی وصولی زیرِ التوا۔

سیونی: تلوارہ نہر منصوبے میں 1.49 کروڑ روپے کی اضافی ادائیگی۔

پٹواری نے الزام لگایا کہ یہ گڑبڑیاں محض انتظامی چوک نہیں، بلکہ منصوبہ بند بدعنوانی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سنگرولی منصوبے میں مئی 2022 کے بجائے مارچ 2021 کا انڈیکس نافذ کیا گیا، جبکہ شہڈول میں غلط بنیاد مہینہ منتخب کر کے ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ آبی وسائل کے ٹینڈر کے عمل پر پہلے بھی سوال اٹھائے جا چکے ہیں۔ بڑے ٹینڈرز میں کچھ منتخب کمپنیوں - ’فلو دی کنسٹرکشن‘ اور ’گپتا کنسٹرکشن‘ کا مسلسل انتخاب ہونا شک پیدا کرتا ہے۔ پٹواری نے الزام لگایا کہ انہیں بار بار فائدہ پہنچانے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے ٹینڈر دیے جا رہے ہیں۔

پٹواری نے محکمانہ کاموں میں ”نوشاد“ اور ’اشون ناٹو‘ جیسے غیر سرکاری افراد کے مبینہ کردار پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ اب تک ان پر کوئی کارروائی نہ ہونا حکومت کی ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے پنا ضلع میں 47 لاکھ روپے کی بے ضابطہ ادائیگی کے معاملے میں صرف تنخواہ میں اضافے کو روکنے جیسی کارروائی کو ”نرمی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہے کہ حکومت بدعنوانوں کو تحفظ دے رہی ہے۔

کانگریس کے اہم مطالبات

٭ معاملے کی اعلیٰ سطحی آزادانہ تحقیقات (ایس آئی ٹی یا سی بی آئی)۔

٭ قصوروار افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت مجرمانہ کارروائی۔

٭ سرکاری نقصان کی مکمل بھرپائی۔

٭ مستقبل کے لیے شفاف اور جوابدہ نظام کی فراہمی۔

جیتو پٹواری نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں بدعنوانی اب ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکی ہے اور عوام کے پیسے کی کھلی لوٹ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس مسئلے کو عوام کے درمیان لے جا کر جوابدہی طے کرائے گی اور بدعنوانی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande