
ممبئی ، 29 مارچ (ہ س) ڈومبیولی کے نلجے گاؤں کے باشندوں نے ریلوے کراسنگ کیلئے متبادل راستہ فراہم کرنے کے مطالبے پر ریلوے انتظامیہ کے خلاف غیر معینہ مدت کا دھرنا احتجاج شروع کر دیا ہے۔ گاؤں والوں کے مطابق یہ مسئلہ گزشتہ پانچ سے چھ سال سے زیر التوا ہے، تاہم بارہا درخواستوں اور ملاقاتوں کے باوجود ریلوے انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا گیا، جس کے باعث عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
28 مارچ سے شروع ہونے والے اس احتجاج میں پرکاش پاٹل، ڈاکٹر رمیش پاٹل، تکارام پاٹل، شرد پاٹل، مکوند پاٹل، بلی رام پاٹل اور پندھری ناتھ پاٹل سمیت بڑی تعداد میں گاؤں والے اور عہدیداران شریک ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ متبادل راستہ گاؤں سے تقریباً ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر دور ہے، جس کے باعث بزرگوں، خواتین اور اسکولی بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ برسات کے موسم میں اس راستے پر پانی جمع ہو جاتا ہے، جس سے آمد و رفت میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ پہلے ریلوے پھاٹک کا راستہ گاؤں والوں کیلئے آسان تھا، مگر اسے بند کر دینے کے بعد مسائل بڑھ گئے ہیں۔
گاؤں والوں نے اس سلسلے میں کئی مرتبہ ریلوے حکام کو خطوط ارسال کیے اور ڈی آر ایم سے ملاقات بھی کی، لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس کے بعد احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا۔
اس دوران کلیان دیہی حلقے کے رکن اسمبلی راجیش مورے نے احتجاجی مظاہرین سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شری کانت شندے سے بات چیت کر کے ریلوے انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کے ذریعے اس مسئلے کا جلد حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے