گیس کی قلت کے درمیان غیر قانونی ذخیرہ
علی گڑھ, 29 مارچ (ہ س) ۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے بیچ جاری کشیدگی کے باعث ایل پی جی گیس کی کمی کے دوران پولیس اور انتظامیہ نے غیر قانونی گیس سلنڈروں کے ذخیرہ اور کالا بازاری کے ایک بڑے معاملے کا پردہ فاش کیا۔ مشترکہ ٹیم نے چھاپہ مار کر ا
گیس کی قلت کے درمیان غیر قانونی ذخیرہ


علی گڑھ, 29 مارچ (ہ س)

۔

اسرائیل، امریکہ اور ایران کے بیچ جاری کشیدگی کے باعث ایل پی جی گیس کی کمی کے دوران پولیس اور انتظامیہ نے غیر قانونی گیس سلنڈروں کے ذخیرہ اور کالا بازاری کے ایک بڑے معاملے کا پردہ فاش کیا۔ مشترکہ ٹیم نے چھاپہ مار کر ایک لوڈر سے 29؍گھریلو گیس سلنڈر برآمد کیے۔ یہ تمام سلنڈر ریفلنگ کے لیے رکھے گئے تھے۔ موقع پر موجود دو نوجوانوں نے خود کو ہاکر بتایا اور کہا کہ وہ ایک ایجنسی سے سپلائی کے لیے سلنڈر لا رہے تھے، لیکن جانچ میں یہ بات غلط نکلی۔ ایجنسی میں مکمل اسٹاک موجود تھا اور یہ سلنڈر کالا بازاری میں استعمال ہو رہے تھے۔ ان سلنڈروں کو دو سے ڈھائی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا رہا تھا۔

اس معاملے میں دونوں افراد کے خلاف محکمہ رسد نے مقدمہ درج کرا دیا ہے اور پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ضلع سپلائی افسر ستیہ ویر سنگھ کو اطلاع ملی کہ کوارسی کے جیونگڑھ، گلی نمبر میں گیس سلنڈروں سے بھری مشتبہ گاڑی کھڑی ہے۔ اس پر وہ اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے اور گاڑی کو گھیر لیا گیا۔ اطلاع ملنے پر اے سی ایم دوم دگ وجے سنگھ اور سی او سروم سنگھ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ مشترکہ کارروائی میں لوڈر کپڑوں کی دکان کے سامنے کھڑا ملا، جس میں گھریلو گیس سلنڈر لدے ہوئے تھے۔

پوچھ گچھ میں ڈرائیور نے اپنا نام ناصر، ساکن جیون گڑھ بتایا۔ وہ اور اس کا ساتھی امن کوئی درست دستاویز پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جواں علاقے کی اندو گیس سروس کے ہاکر ہیں۔ اسکے بعد پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم گیس ایجنسی پہنچی، جہاں مالک سے بات کی گئی۔ انہوں نے دونوں افراد کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ ایجنسی کے گودام میں مکمل اسٹاک ملا اور ریکارڈ بھی درست پایا گیا۔

ضلع سپلائی افسر ستیہ ویر سنگھ نے کہا کہ گیس کی کالا بازاری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ آئندہ دنوں میں بھی اس طرح کی مشترکہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اگر کہیں غیر قانونی ذخیرہ یا

مہنگے داموں سلنڈر فروخت ہونے کی اطلاع ملے تو فوراً انتظامیہ کو خبر دیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande