آرامکو نے پائپ لائن کے ذریعے 70 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل کی انتہائی حد مکمل کرلی
ریاض،29مارچ(ہ س)۔خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ آرامکو کی سعودی پائپ لائن ’ایسٹ ویسٹ‘ جو کہ آبنائےہرمز کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی ہے اس وقت اپنی مکمل گنجائش یعنی 70 لاکھ بیرل یومیہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔
آرامکو نے پائپ لائن کے ذریعے 70 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل کی انتہائی حد مکمل کرلی


ریاض،29مارچ(ہ س)۔خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ آرامکو کی سعودی پائپ لائن ’ایسٹ ویسٹ‘ جو کہ آبنائےہرمز کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی ہے اس وقت اپنی مکمل گنجائش یعنی 70 لاکھ بیرل یومیہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی جانب اس پائپ لائن کے ذریعے اپنی تیل کی برآمدات بڑھانے کا ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے۔ اس بندش نے خلیجی ممالک کے تیل پیدا کرنے والے اداروں کے لیے برآمدات کا مرکزی راستہ مسدود کر دیا تھا۔

اس تناظر میں تیل بردار بحری جہازوں کے بیڑوں نے اپنے رخ ینبع بندرگاہ کی طرف موڑ دیے ہیں تاکہ وہاں سے تیل کی ترسیل کی جا سکے جس نے عالمی منڈیوں کے لیے رسد کی ایک اہم شہ رگ فراہم کر دی ہے۔سعودی پیٹرولیم سیکٹر سے وابستہ ایک باخبر شخص کے مطابق ینبع کے ذریعے خام تیل کی برآمدات تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہیں جبکہ مملکت روزانہ 7 لاکھ سے 9 لاکھ بیرل کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات بھی برآمد کر رہی ہے۔اس پائپ لائن سے روزانہ گزرنے والے 70 لاکھ بیرل تیل میں سے تقریباً 20 لاکھ بیرل سعودی ریفائنریوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ینبع کا یہ راستہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی رسد کی کمی کو جزوی طور پر پورا کر رہا ہے جہاں سے جنگ چھڑنے سے قبل یومیہ تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل خام تیل گزرتا تھا۔اس متبادل راستے کی موجودگی ان اہم وجوہات میں سے ایک ہے جس نے تیل کی قیمتوں کو ان بحرانی سطحوں تک پہنچنے سے روک دیا ہے جو گذشتہ دور میں رسد کی کمی کے دوران عالمی منڈیوں نے دیکھی تھیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande