یاسین پٹھان نے ووٹ کے بائیکاٹ کی وارننگ دی
مغربی میدنی پور، 26 مارچ (ہ س)۔ ضلع کے پاتھرا علاقے میں کئی قدیم ہندو مندروں کے تحفظ اور ان کی بحالی میں اہم کردار ادا کرنے والے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے صدرِ جمہوریہ سے کبیر ایوارڈ حاصل کر چکے یاسین پٹھان نے اپنے خاندان کے ساتھ آئندہ انتخ
کبیر ایوارڈ یافتہ یاسین پٹھان


مغربی میدنی پور، 26 مارچ (ہ س)۔ ضلع کے پاتھرا علاقے میں کئی قدیم ہندو مندروں کے تحفظ اور ان کی بحالی میں اہم کردار ادا کرنے والے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے صدرِ جمہوریہ سے کبیر ایوارڈ حاصل کر چکے یاسین پٹھان نے اپنے خاندان کے ساتھ آئندہ انتخابات میں ووٹنگ کے بائیکاٹ کی وارننگ دی ہے۔

یہ معاملہ کھڑگ پور دیہی اسمبلی حلقہ کے تحت آنے والے پاتھرا گاوں سے جڑا ہے۔ گاوں کے رہائشی یاسین پٹھان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے اور دو بیٹیوں کے نام ووٹر لسٹ میں ’’انڈر ایڈجوڈیکیشن‘‘ یعنی ’’زیرِ سماعت‘‘ زمرے میں درج کر دیے گئے ہیں، جبکہ انہوں نے پہلے ہی تمام ضروری دستاویزات متعلقہ حکام کے پاس جمع کر دیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سال 1978 سے مسلسل ووٹ ڈالتے آ رہے ہیں اور سال 2002 کی ووٹر لسٹ میں ان کا اور ان کی اہلیہ کا نام بھی درج ہے۔ ان کے بیٹے تصویر پٹھان بادشاہ (40) اور بیٹیاں تانیہ پروین (37) اور تمنا پروین (34) بھی پہلے کئی بار ووٹ ڈال چکی ہیں۔ اس کے باوجود تازہ ترین سپلیمنٹری ووٹر لسٹ میں ان کے نام ’’زیرِ سماعت‘‘ فہرست میں ہونے سے خاندان میں عدم اطمینان ہے۔

یاسین پٹھان نے کہا کہ اگر ان کے بچوں کے حقِ رائے دہی کو بحال نہ کیا گیا تو وہ اور ان کے خاندان کے تمام ارکان اس بار ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد مقامی سیاست بھی گرما گئی ہے۔ دینین رائے، جو کھڑگ پور دیہی سے ترنمول کانگریس کے امیدوار ہیں، نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کا طریقہ کار عام لوگوں کو پریشان کر رہا ہے۔

دوسری طرف شنکر گچھیت، جنہیں بدھ کی شام ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے میدنی پور صدر اسمبلی حلقہ سے اپنا امیدوار قرار دیا ہے، نے اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن یقیناً معاملے کی جانچ کر کے مناسب قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے بھروسہ جتایا کہ کمیشن غیر جانبدارانہ طریقے سے فیصلہ کرے گا اور جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں زیرِ سماعت ہیں، ان کے معاملات بھی قوانین کے مطابق حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ الیکشن کمیشن پر اعتماد رکھیں اور جمہوری عمل میں اپنی شراکت برقرار رکھیں۔

کھڑگ پور دیہی علاقے کا پاتھرا گاوں تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے لحاظ سے بے حد اہم مانا جاتا ہے۔ کانسابتی ندی کے کنارے آباد اس علاقے میں قرونِ وسطیٰ کے تقریباً 30 سے زائد قدیم مندروں کے باقیات پائے جاتے ہیں، جن میں سے کئی مندر17ویں - 18 ویں صدی کے بتائے جاتے ہیں۔ انہی تاریخی مندروں کی وجہ سے پاتھرا کو ’’مندرمئے پاتھرا‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ان خستہ حال ہو چکے مندروں کے تحفظ اور بحالی کے لیے برسوں پہلے یاسین پٹھان نے پہل کی اور مقامی لوگوں کو ساتھ لے کر مندروں کی حفاظت اور مرمت کی مہم شروع کی۔ ان کی کوششوں سے کئی مندروں کی دوبارہ تعمیر اور تحفظ ممکن ہو سکا۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ورثے کے تحفظ کے اس کام کے لیے انہیں ہندوستان کے صدرِ جمہوریہ کی جانب سے باوقار کبیر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande