
حیدرآباد، 24 مارچ (ہ س)۔تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی او بی سی سیل کے صدرنشین کی حیثیت سے شاد نگر کے رکن اسمبلی ای شنکر نے آج جائزہ حاصل کرلیا۔ پارٹی ہیڈ کوارٹر گاندھی بھون میں تقریب جائزہ منعقد کی گئی جس میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، اے آئی سی سی سکریٹری سچن راوت ، ریاستی وزراء پونم پربھاکر، وی سری ہری ، گورنمنٹ وہپ اے سرینواس ، بی ایلیا ، رکن اسمبلی نوین یادو،رکن کونسل بسواراج ساریا ، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ ، مدھو یاشکی گوڑ ، فشریز کارپوریشن کے صدرنشین این سریکانت اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کو کانگریس پارٹی سے قریب لانے میں او بی سی سیل اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے بی جے پی صدر رام چندر راؤ اور بی آر ایس قائدین کے سی آر اور کے ٹی آر کو چیلنج کیا کہ وہ برسر اقتدار آنے پر بی سی لیڈر کو وزیراعلی بنانے کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیاں مخالف پسماندہ طبقات ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ پسماندہ طبقات نے اتحاد کی کمی کے نتیجہ میں اہم عہدوں کے حصول میں ناکام ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ میں آئندہ وزیراعلی بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہوں گے۔ حکومت نے نامزد عہدوں پر 65 فیصد بی سی قائدین کو مقرر کیا ہے۔ ضلع کانگریس صدور کے عہدوں پر 60 فیصد ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کو نمائندگی دی گئی۔ پنچایت راج چناؤ میں 67 فیصد بی سی سرپنچ منتخب ہوئے۔ تلنگانہ نے طبقاتی سروے کے ذریعہ ملک کیلئے مثال قائم کی ہے۔ سماجی انصاف کی فراہمی کیلئے راہول گاندھی کی ہدایت پر حکومت عمل پیرا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی تائید سے کانگریس 100 اسمبلی نشستوں کے ساتھ دوبارہ برسر اقتدار آئے گی۔ پسماندہ طبقات کے اتحاد سے کانگریس کو اقتدار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کا بل گورنر کے پاس زیر التواء ہے جس کے نتیجہ میں پارٹی نے ٹکٹوں کی تقسیم میں بی سی طبقات کو 42 فیصد نمائندگی دی ۔آئندہ اسمبلی انتخابات تک نشستوں کی از سر نو حدبندی کی صورت میں تلنگانہ میں جملہ اسمبلی نشستیں 140 سے زائد ہوجائیں گی۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق