سرکاری ملازمین کے بقایہ جات کے لئے ایک ہزار کروڑ جاری : بھٹی وکرمارکا
حیدرآباد ، 24 مارچ (ہ س) ۔تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں وظیفہ یاب ملازمین کے ریٹائرمنٹ بینیفٹس اورزیرالتواء مہنگائی بھتہ کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے واضح جواب نہ دینے پر بی آر ایس نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی سرکاری
سرکاری ملازمین کے بقایہ جات کے لئے ایک ہزار کروڑ کی اجرائی : بھٹی وکرمارکا


حیدرآباد ، 24 مارچ (ہ س) ۔تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں وظیفہ یاب ملازمین کے ریٹائرمنٹ بینیفٹس اورزیرالتواء مہنگائی بھتہ کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے واضح جواب نہ دینے پر بی آر ایس نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی سرکاری ملازمین اور پنشنرس کے بقایہ جات کی اجرا میں حکومت پر تساہل کا الزام عائد کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے علاوہ مہنگائی بھتہ اور میڈیکل بلز جاری نہیں کئے گئے ۔ نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ملازمین کے بقایہ جات کے طورپر ہر ماہ 700 کروڑ جاری کئے جار ہے ہیں۔ انہوں نے مہنگائی بھتہ کے بقایہ جات جلد جاری کرنے کا تیقن دیا۔ حکومت کی جانب سے غیر واضح تیقن پر بی آر ایس نے احتجاج درج کراتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت سرکاری ملازمین کی بھلائی کے عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں سرکاری ملازمین کو ہر ماہ کی 15 تاریخ کے بعد تنخواہ جاری کی جاتی تھی۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد کسی تاخیر کے بغیر ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ جاری کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی بھتہ کے تین بقایہ جات جاری کئے جو بی آر ایس حکومت کے دور میں زیر التواء تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے ریٹائرمنٹ بینیفٹس کی ادائیگی سے بچنے کیلئے سابق حکومت نے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں تین سال کا اضافہ کردیا تھا۔ سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر 58 سے بڑھاکر61 برس کی گئی جبکہ درجہ چہارم ملازمین کی سبکدوشی کی عمر کو60 سے بڑھاکر 65 سال کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کے نتیجہ میں 17,000 ملازمین کے ریٹائرمنٹ بینیفٹس کا بوجھ موجودہ حکومت پر عائد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے میڈیکل بلز کے تمام بقایہ جات جاری کردیئے ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے بتایا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد سرکاری ملازمین کیلئے سابق حکومت نے 4015 کروڑ کے بقایہ جات رکھے تھے۔ حکومت نے معاشی صورتحال پر وائیٹ پیپر جاری کیا اور ملازمین کے 4575 کروڑ کے زیر التواء بلز جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت بقایہ جات کی ادائیگی کے لئے ہر ماہ 700 کروڑ جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جاریہ ماہ 700 کروڑ کے بجائے ایک ہزار کروڑ کی اجرائی کا فیصلہ کیا تاکہ بقایہ جات جلد ادا کردیا جائے۔ ریونت ریڈی حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرکاری ملازمین کے مسائل کی یکسوئی کر رہی ہے ۔ ملازمین کیلئے کیاش لیس میڈیکل کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بی آر ایس دور میں 10 برسوں تک ملازمین کی تنظیموں نے ہیلت کارڈ کا مطالبہ کیا لیکن کانگریس حکومت نے ہیلت کارڈس کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس حکومت سرکاری ملازمین کیلئے حادثاتی بیمہ اسکیم متعارف کر رہی ہے جس کے تحت حادثہ کی صورت میں پسماندگان کو 1.25 کروڑ ادا کئے جائیں گے۔ حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں سرکاری ملازمین کیلئے 6146 کروڑ جاری کئے۔ پے ریویژن کمیشن کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد نئی پی آر سی پر عمل آوری کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں سرکاری ملازمین کے مسائل کو نظر انداز کردیا گیا جبکہ کانگریس حکومت نے ملازمین کے نمائندوں کووزیراعلی اور وزراء سے ملاقات کی اجازت دی ہے ۔۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande