

۔ دتیا ضلع کے بھانڈیر میں ریاستی سطح کے کسان کنونشن میں شامل ہوئے وزیراعلیٰ، ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا
بھوپال، 24 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ کسان ہی قوم کی تقدیر کے معمار ہیں۔ وہ سورج کی تپتی گرمی میں اپنی مشقت سے سب کے لیے اناج اگاتے ہیں۔ ’کاشتکار بہبود سال‘ میں ریاستی حکومت کسانوں کی خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو منگل کو دتیا ضلع میں منعقدہ ریاستی سطح کے کسان کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے بھگوان شری بلرام کو نمن کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے کسان جدید زرعی آلات سے کھیتی کریں، مویشی پروری، ماہی پروری اور زراعت پر مبنی صنعتیں شروع کر کے فوڈ پروسیسنگ سے اپنی آمدنی دگنی کریں۔ اس کے لیے کئی اسکیموں کے تحفے دیے جا رہے ہیں۔ اب ہمارے کسان ’نروائی‘ (فصل کی باقیات) کے انتظام کے لیے مشینوں سے بھوسہ بھی بنا رہے ہیں، جس سے انہیں گیہوں اور بھوسہ، دونوں سے کمائی کا سنہری موقع ملا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان تمام شعبوں میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جہاں بحران آیا ہو اور وزیراعظم مودی کی پہل سے ہندوستانی شہریوں کی گھر واپسی یقینی نہ بنائی گئی ہو۔ مدھیہ پردیش حکومت وزیراعظم مودی کے ’ترقی یافتہ بھارت‘ کے عزم کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش بہت جلد ملک کا نمبر ون صوبہ بنے گا۔
وزیراعلیٰ نے کسان کنونشن میں دتیا کو 62.23 کروڑ کے ترقیاتی کاموں کا تحفہ دیا۔ انہوں نے 62.23 کروڑ کی لاگت کے 12 ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ اس میں شاندار ساندیپنی اسکول، مذہبی مقام رتن گڑھ میں مسافر خانہ (یاتری نیواس)، اسٹیڈیم سمیت دیگر ترقیاتی کام شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کنونشن میں مستفیدین کو زرعی آلات، مویشی پروری اور فوڈ پروسیسنگ کے لیے امدادی رقوم و اشیاء بھی تقسیم کیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بھگوان شری کرشن نے اپنی پوری زندگی عوامی بہبود کے لیے وقف کر دی۔ ریاست کے ساندیپنی اسکول بچوں کے روشن مستقبل کے مندر کی طرح ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو مفت کتابیں، ڈریس، سائیکلیں، لیپ ٹاپ اور اسکوٹی تک دی جا رہی ہیں۔ اسی تعلیمی سیشن سے ’یشودا یوجنا‘ میں بچوں کو دودھ کے پیکٹ بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تمام اہل ’لاڈلی بہنوں‘ کو ہر ماہ 1500 روپے کی رقم مل رہی ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست میں آبپاشی کا رقبہ بڑھانے کے لیے ریاستی حکومت پختہ عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ آبپاشی کا رقبہ کبھی ساڑھے 7 لاکھ ہیکٹر تھا، جو اب بڑھ کر 55 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ 2 برسوں میں سیراب زمین کا رقبہ تقریباً دس لاکھ ہیکٹر بڑھ گیا ہے۔ ’کین-بیتوا لنک‘ دریا جوڑو پروجیکٹ کے ذریعے بندیل کھنڈ خطے اور آس پاس کے اضلاع کے کسانوں کو آبپاشی کے لیے کافی پانی ملے گا۔ مرکزی حکومت نے مدھیہ پردیش کو دریا جوڑو پروجیکٹ کا اہم تحفہ دیا ہے، جس کا فائدہ اترپردیش کے کچھ اضلاع کو بھی ملے گا۔ اب بندیل کھنڈ خطے سے کوئی کسان ہجرت کرنے پر مجبور نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسان فصل کاٹنے کے بعد کھیتوں میں نروائی کو نہ جلائیں، اس سے زمین کی زرخیزی کم ہوتی ہے۔ ریاستی حکومت بھوسہ بنانے کے لیے مستفیدین کو ’ہیپی سیڈر‘ مشینیں فراہم کر رہی ہے۔ کسان بھوسہ بنا کر قریبی گئو شالاوں میں فروخت کریں۔ اب کسانوں کو گیہوں کے ساتھ ساتھ بھوسے کا بھی پیسہ ملے گا۔ چھوٹے کسانوں کو وقت پر کرائے پر زرعی آلات مل جائیں اور ان کی کھیتی اچھی ہو جائے، اس کے لیے اسمبلی کی سطح پر ’کسٹم ہائرنگ سینٹر‘ یعنی زرعی آلات کی کرائے کی دکانیں کھولی جا رہی ہیں۔ بدلتے دور میں کافی بجلی سب کی ضرورت ہے۔ برسات کے بعد آبپاشی کے لیے کسانوں کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کریں گے۔ کسانوں کے لیے متعدد اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے گلہ بانی سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ’ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کامدھینو یوجنا‘ کا آغاز کیا ہے۔ ریاست میں دودھ کی پیداوار کو 9 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کا عزم کیا ہے۔ کامدھینو یوجنا میں 25 گئو پالنے پر 40 لاکھ روپے فی یونٹ قائم کرنے کی اسکیم میں ریاستی حکومت نے 10 لاکھ کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت دلوانے کے لیے ’بھوانتر ادائیگی اسکیم‘ سے سویا بین پر فائدہ دیا گیا ہے۔ اب سرسوں کی فصل کو بھی بھوانتر اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے گیہوں پیدا کرنے والے کسانوں کو اس سال امدادی قیمت پر 40 روپے فی کوئنٹل بونس دیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو بھانڈیر میں اچانک کسان کے کھیت میں پہنچ گئے۔ کسان کے کھیت میں چل رہی ’اسٹرا ریپر‘ مشین کی انہوں نے سواری کی۔ وزیراعلیٰ نے کسان سے ان کے کھیت میں چل رہی اسٹرا ریپر مشین اور اس سے ملنے والے فائدے کی معلومات لی۔ کسان نے وزیراعلیٰ کے اچانک ان کے کھیت میں آنے پر جذباتی ہوتے ہوئے کہا، ایسا لگ رہا ہے شبری سے ملنے رام آئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کو کسان نے رادھا کرشن کی مورتی پیش کی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کو کسان نے نیا آیا ہوا اناج بطور تحفہ پیش کیا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کنونشن میں مختلف محکموں کی جانب سے لگائی گئی نروائی اور پرالی (بھوسہ) کے انتظام پر مبنی نمائش کا مشاہدہ کیا۔ نمائش میں تقریباً 20 سے زیادہ اسٹال لگائے گئے۔ اس میں زرعی انجینئرنگ، بہبودِ حیوانات، محکمہ امدادِ باہمی، محکمہ باغبانی سمیت مختلف محکموں کے اسٹال لگائے گئے۔ نمائش میں ہیپی سیڈر، سپر سیڈر، کھاد کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا ای-ٹوکن نظام، قدرتی کھیتی، ملٹس (موٹا اناج) اور حکومت کی مختلف اسکیموں کو دکھایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن