
رائےگڑھ ، 24 مارچ (ہ س)۔ ملک میں کمرشیل ایل پی جی گیس کی سپلائی کے حوالے سے مرکزی حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریاستوں کو دیے جانے والے کوٹے میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس سے ہوٹل، ریسٹورنٹس، ڈھابے اور مختلف صنعتوں کو بڑی راحت ملنے کی توقع ہے۔
پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج مِتّل نے اس فیصلے سے متعلق تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے، جبکہ ضلع کلکٹر کشور جاولے نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی ہدایات کے مطابق اس اضافی کوٹے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت پہلے ریاستوں کو ملنے والے 20 فیصد کوٹے میں ترمیم کرتے ہوئے 10 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، اور اب اس میں مزید 20 فیصد اضافہ کیے جانے کے بعد کمرشیل ایل پی جی کی مجموعی فراہمی تقریباً 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اس فیصلے کا سب سے زیادہ فائدہ ہوٹل، ریسٹورنٹس، ڈھابے، صنعتی کینٹین، فوڈ پروسیسنگ یونٹس، ڈیری کاروبار اور سرکاری امدادی غذائی مراکز کو ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاجر مزدوروں کے لیے دستیاب 5 کلو کے ایف ٹی ایل سلنڈرز کی فراہمی کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں، جن کے تحت تمام کمرشیل اور صنعتی صارفین کے لیے متعلقہ تیل کمپنیوں کے ساتھ رجسٹریشن لازمی ہوگی، جبکہ سالانہ استعمال اور کاروباری تفصیلات درج کر کے گیس کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔
جن علاقوں میں پائپ گیس (پی این جی) کی سہولت موجود ہے وہاں صارفین کو پی این جی کے لیے درخواست دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے کمرشیل شعبے میں ایندھن کی قلت کم ہونے اور صنعت و خدمات کے شعبے کو بڑا سہارا ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے