
نئی دہلی، 24 مارچ (ہ س)۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے مغربی ایشیا میں فوجی تنازعہ سے پیدا ہونے والے متعدد چیلنجوں کی روشنی میں حکومت کے محصولات کے تخمینے، بجٹ کی بنیاد اور ملک کے معاشی استحکام پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن تخمینوں پر بجٹ کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ خلیجی خطے میں جنگ اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ یکم مئی کے بعد ملک کو ایک نئی معاشی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا، اور حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اس بحران کا ہندوستانی معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔
تیواری نے منگل کو لوک سبھا میں فنانس بل 2026 پر بحث کے دوران کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ مغربی ایشیا میں فوجی تنازعہ تیل، ایل این جی، غذائی اجناس اور ادویات کی قیمتوں کو کس طرح متاثر کرے گا۔ 30 اپریل تک حکومت انتخابات کے باعث حالات پر قابو پانے کی کوشش کرے گی تاہم یکم مئی کے بعد ملک کو ایک نئی معاشی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کانگریس کے رکن تیواری نے کہا کہ خام تیل کی ہندوستانی ٹوکری کی قیمت فروری 2026 میں 70 ڈالر فی بیرل تھی، جو مارچ میں بڑھ کر 119 ڈالر تک پہنچ گئی۔ ہندوستان نے 2012-13 اور 2013-14 میں اپنے خام تیل کا تقریباً 77 فیصد درآمد کیا، جو مالی سال 2025-26 تک بڑھ کر 88 فیصد ہو گیا۔ اسی طرح، ہندوستان کی ایل این جی کی درآمدات 2013-14 میں تقریباً 29-30 فیصد تھیں، جو 2025-26 میں بڑھ کر 45-47 فیصد ہوگئیں۔ تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستان کی آمدنی پر 10 سے 15 بلین ڈالر کا اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ بھارت ہر سال خام تیل کی درآمد پر 150 سے 200 بلین ڈالر خرچ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ اور فنانس بل یکم فروری 2026 کو پیش کیا گیا تھا لیکن 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ اثر ہندوستان کے لیے انتہائی حساس ہے، اور بجٹ کے بنیادی تخمینے اب درست نہیں ہیں۔ ہندوستان کا کل قرض، جو 2013-14 میں 56.51 لاکھ کروڑ تھا، 2026 میں بڑھ کر 214.8 لاکھ کروڑ ہو گیا ہے۔ مرکز اور ریاستوں کا مشترکہ قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 84.2 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ایف آر بی ایم ایکٹ میں اسے 60 فیصد تک محدود کرنے کا انتظام تھا۔ اس طرح کے زیادہ قرض لینے سے نجی سرمایہ کاری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے، جس سے کمپنیاں زیادہ شرح سود پر مالیات بڑھانے پر مجبور ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس وصولی میں 13 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا تھا لیکن اس میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا۔ کارپوریٹ ٹیکس میں 9 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن ترقی 7 فیصد تھی۔ انکم ٹیکس میں 17 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن اس میں صرف 6 فیصد اضافہ ہوا۔ بالواسطہ ٹیکسوں میں 13 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، لیکن ان میں -1 فیصد کمی آئی۔ ٹیکس میں کمی کی وجہ سے حکومت کو مارکیٹ سے 17 لاکھ کروڑ روپے کا قرض لینا پڑا۔
تیواری نے کہا کہ 2019-20 میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں زبردست کمی کی گئی تھی، اور آج کارپوریٹ ٹیکس کی مو¿ثر شرح صرف 18.85 فیصد ہے۔ اس کے باوجود، نجی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے، اور ہندوستانی معیشت عوامی سرمائے کے اخراجات پر منحصر ہو گئی ہے، جو اب 17.14 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نجی شعبے کو اتنی مراعات دینے کے باوجود سرمایہ کاری بڑھانے سے کیوں قاصر ہے؟
انہوں نے کہا کہ 2014 میں روپیہ 60.99 فی ڈالر پر تھا اور اب بڑھ کر 93.34 فی ڈالر ہو گیا ہے۔ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری اور غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری ہندوستان سے باہر نکل رہی ہے۔ ستمبر سے دسمبر 2025 تک ایف ڈی آئی کی آمد منفی رہی ہے، جس کا اثر براہ راست روپے کی مضبوطی پر پڑا ہے۔ جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر کیپیٹل اکاو¿نٹ بیلنس -6 فیصد ہے، اور برائے نام موثر شرح تبادلہ -7 فیصد ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی