
بھوپال، 24 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے پرانے شہر میں واقع اتوارہ چوراہے پر منگل کو مسلمانوں نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کیا۔ ’آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی‘ کے بینر تلے منعقد اس احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے اور یہ مطالبہ زور و شور سے اٹھایا گیا۔ احتجاج کے دوران ’گئو ماتا کے احترام میں مسلمان میدان میں‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔
احتجاج کی خاص بات یہ رہی کہ یہ مطالبہ خود مسلمانوں کی جانب سے سامنے آیا، جسے عام طور پر اس مسئلے پر مختلف نقطہ نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اس وجہ سے یہ تحریک نہ صرف سماجی بلکہ ایک وسیع پیغام دینے والی بھی مانی جا رہی ہے۔ کمیٹی کے سرپرست شمس الحسن نے واضح طور پر کہا کہ ہم گائے کے تحفظ کے حامی ہیں۔
انہوں نے ملک میں گائے اور بچھڑوں کو لے کر پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو غلط سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سماج گائے کو ماتا کا درجہ دیتا ہے، تو اسے قومی جانور قرار دینے میں حکومت کو کسی قسم کا اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ یہ مطالبہ مسلمانوں کی جانب سے اٹھایا جا رہا ہے، اس لیے اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
احتجاج کے دوران وزیراعظم، مرکزی وزیر داخلہ، گورنر اور وزیراعلیٰ سے گائے کو جلد قومی جانور قرار دینے کی اپیل کی گئی۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ ایسا ہونے سے گائے کے ذبیحہ سے منسلک تنازعات، افواہیں اور الزامات کم ہوں گے، ساتھ ہی حقیقی مجرموں کی شناخت کرنا بھی آسان ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن