تہران میں زوردار دھماکہ، اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، لبنان کا قاسمیہ پل تباہ
تہران/تل ابیب/بیروت، 23 مارچ (ہ س)۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا آسمان میزائلوں کی تیز رفتار سے چمک اٹھا۔ لبنان میں قاسمیہ پل کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی
war-tehran-israel-lebanon


تہران/تل ابیب/بیروت، 23 مارچ (ہ س)۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا آسمان میزائلوں کی تیز رفتار سے چمک اٹھا۔ لبنان میں قاسمیہ پل کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ اس جنگ نے تیل اور گیس کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے جس سے پوری دنیا میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

الجزیرہ اور ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹوں کے مطابق، ایران کے دارالحکومت تہران کا مشرقی حصہ جنگ کے اب تک کے سب سے بڑے حملے کی زد میں آیا ہے۔ دارالحکومت تہران کا مشرقی حصہ اس کے اثرات سے لرز اٹھا ہے۔ حملے کی شدت کو دیکھتے ہوئے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے کیا گیا۔

تہران پر حملہ کرنے سے پہلے، اسرائیلی ڈیفنس فورسز ( آئی ڈی ایف) نے اعلان کیا کہ ایران پر حملے شروع ہونے والے ہیں۔ دریں اثنائ، ایران کے خرم آباد میں فضائی حملوں نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ میزائلوں اور راکٹوں کی زد میں آنے کے بعد علاقے میں اندھیرا چھا گیا جس سے کچھ عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں۔

اطلاعات کے مطابق، اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک اہم پل کو نشانہ بنایا ہے۔ حملے میں قاسمیہ پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس سے ٹریفک اور انسانی ہمدردی کی رسائی میں خلل پڑا۔ لبنانی صدر جوزف عون نے حملے کی مذمت کی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس پل کو حزب اللہ کے عسکریت پسند استعمال کرتے تھے اور حزب اللہ کے حملوں کو روکنے کے لیے اسے تباہ کرنا ضروری تھا۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ تہران کے حملے اس وقت کیے گئے جب ایرانی کلسٹر میزائلوں سے وسطی اسرائیل میں نقصان پہنچا۔ ایرانی حملے میں کسی کے زخمی نہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande