
جے پور، 23 مارچ (ہ س)۔ راجستھان میں موسم نے پیر کی صبح اچانک کروٹ لی اور راجدھانی جے پور سمیت کئی اضلاع میں بادل چھانے کے ساتھ ساتھ تیزگرج چمک کے ساتھ بارش شروع ہوگئی۔ اس تبدیلی سے ریاست بھر میں درجہ حرارت میں کمی آگئی اور لوگوں نے ایک بار پھر ہلکی سردی، یعنی ”گلابی سردی“ کا تجربہ کیا۔
جے پور میں آج صبح اچانک موسم بدل گیا اور تیز گرج چمک کے ساتھ رمجھم بارش شروع ہوگئی۔ بارش کے دوران حد نگاہ کم ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو دن کے وقت بھی ہیڈ لائٹس آن کرنی پڑیں۔ صرف آدھے گھنٹے کی بارش سے کئی سڑکوں پر پانی بھر گیا جس سے ٹریفک میں خلل پڑا۔ اسی طرح الور میں بھی صبح سے ہی گھنے بادل چھائے رہے اور ہلکی بارش شروع ہوئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا۔
ڈیڈوانا میں بھی صبح کے وقت گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہوئی، حالانکہ یہ بارش صرف 10 منٹ تک جاری رہی، لیکن اس کے بعد بھیمطلع ابر آلود رہا اور درجہ حرارت گر گیا۔ دوسری جانب مغربی راجستھان میں اتوار کی رات دیر گئے بالوترا ضلع کے سمدڑی علاقے میں شدید ژالہ باری ہوئی جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو موسم کی اچانک تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل اتوار کو بھی جودھ پور، بیکانیر ڈویژن کے کئی علاقوں میں بادل چھائے رہے اور جیسلمیر اور پھلودی علاقے میں ہلکی بارش اور تیز ہوائیں چلیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست میں ویسٹرن ڈسٹربنس کے مسلسل سرگرم ہونے کی وجہ سے یہ تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ 23 اور 24 مارچ کو موسم بنیادی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے تاہم جزوی بادل چھائے رہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد 25 اور 26 مارچ کو ایک نیا کمزور مغربی ڈسٹربنس فعال ہونے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے ریاست کے تقریباً 15 اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔ اتوار کو بھی ریاست کے کئی شہروں میں بادل چھائے رہنے کی وجہ سے درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔ باڑمیر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو سب سے زیادہ تھا، جب کہ دیگر شہروں میں درجہ حرارت 28 سے 34 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد