
ناسک کیس پر اسمبلی میں گرما گرم بحث، تحقیقات پر زورممبئی ، 23 مارچ (ہ س)۔ ناسک کے مبینہ عصمت دری معاملے پر مہاراشٹر اسمبلی میں بحث کے دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واضح کیا کہ اس کیس کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری رہیں گی۔ انہوں نے 23 مارچ 2026 کو ایوان میں کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جو خواتین کے وقار سے متعلق ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پولیس کی کارروائی کے بعد کئی متاثرہ خواتین سامنے آئی ہیں اور مسلسل نئی شکایات درج ہو رہی ہیں، جس کے باعث تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ فڑنویس نے یقین دہانی کرائی کہ مکمل جانچ کے بعد تمام حقائق ایوان کے سامنے رکھے جائیں گے اور کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب اپوزیشن نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔ کانگریس کے رکن اسمبلی وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ اس واقعے نے ریاست کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے اور اس پر فوری بحث ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے بعض وزراء کے ملزم اشوک کھرات سے تعلقات رہے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے ریاستی خواتین کمیشن کی سابق چیئرپرسن روپالی چاکنکر کے استعفیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی معیار دیگر افراد پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔کانگریس کے نانا پٹولے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے بھاسکر جادھو نے بھی ان مطالبات کی تائید کرتے ہوئے متعلقہ وزراء کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران اسپیکر راہول نارویکر نے واضح کیا کہ اس موضوع پر فوری بحث کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم قواعد کے تحت مناسب وقت پر اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے