گھوڑے کے ساتھ مالک کے ذریعہ بے رحمانہ سلوک کی چوطرفہ مذمت
سرینگر23 مارچ(ہ س )۔تصویروں میں آپ جس بے زبان جانور کو دیکھ رہے ہیں یہ دراصل وہ گھوڑا ہے جسے اس کا مالک امرناتھ یاترا کے دوران کام پر لگا کر اسکے ذریعے سے پیسہ کماتا ہے اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا ہے۔ اور یہی وہ گھوڑا ہے جو امرناتھ یاترا کے دور
تصویر


سرینگر23 مارچ(ہ س )۔تصویروں میں آپ جس بے زبان جانور کو دیکھ رہے ہیں یہ دراصل وہ گھوڑا ہے جسے اس کا مالک امرناتھ یاترا کے دوران کام پر لگا کر اسکے ذریعے سے پیسہ کماتا ہے اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا ہے۔ اور یہی وہ گھوڑا ہے جو امرناتھ یاترا کے دوران بال تل سے یاتریوں کو اپنے جسم پر سوار کرکے درشن کےلۓ لے جاتا ہے ۔لیکن جب سردیاں شروع ہوتی ہے تو درجنوں ایسے خودغرض مالک ایسے گھوڑوں کو بےلگام اور آورہ چھوڑ کر انکی طرف دھیان نہیں دیتے ہیں۔بلکہ ان بے زبان جانوروں کو گاندربل کے کئ علاقوں میں آوارہ چھوڑ دیتے ہیں۔ جو کہ ان بے زبان جانوروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ تصویروں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس گھوڑے کی جو دم ہے اس پر اس خودغرض مالک نے ایک پلاسٹک کا پانچ لیٹر والا گیلن باندھ کے رکھا ہے ۔ تاکہ یہ کہیں دور نہ بھاگے , گھوڑا جوں ہی اگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو پلاسٹک کا یہ گیلن اسکی ٹانگوں پر زوردار جھٹکا مار رہا ہے جو کہ سراسر اس بے زبان جانور کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔گھوڑے کے ساتھ بے رحمانہ اور غیر انسانی سلوک کی لوگوں نے مذمت کی ہے۔غور طلب ہے کہ ایسے درجنوں گھوڑے گاندربل کے کئ علاقوں میں مالکوں کی طرف سے خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دۓ گئے ہیں۔ اور جب کام کا سیزن شروع ہوتا ہے تو ان کو واپس لاکر ان سے کام لیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ان گھوڑوں کے کان پر ایک پٹی بندھی ہوئی ہوتی ہے جس کے ذریعے اس کے مالک تک پہنچ کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ متعلقہ محکمے نے آج تک ان بےزبانوں کے مالکوں کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی نہیں کی ہے تاکہ یہ خودغرض مالکان ان کے ساتھ آنے والے وقت میں کوئی بھی زیادتی نہ کریں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir


 rajesh pande