
جموں, 23 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز ہمدردانہ بنیادوں پر ملازمت کے قواعد میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب سرکاری ملازمین کی دوران ملازمت بیماری کی وجہ سے موت کی صورت میں بھی ان کے اہلِ خانہ کو ملازمت کے لیے زیر غور لایا جائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت اب تک 438 افراد کو تقرری کے خطوط جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کویڈ-19 وباء اور لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کے روزگار کے نقصان سے پیدا ہونے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وباء اور لاک ڈاؤن کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی ملازمتیں کھو دیں اور حکومت ان کی تکالیف کو سمجھتی ہے۔
منوج سنہا نے مزید کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اور سینئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ منظوری کے خطوط جلد از جلد جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر کیس کی مکمل جانچ کے بعد ہی منظوری دی جا رہی ہے تاکہ کسی غیر مستحق فرد کو فائدہ نہ پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اہم پالیسی نرمی کے تحت اب ایسے سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جن کی موت طبعی طور پر ہوئی تھی، جبکہ پہلے وہ اس اسکیم کے دائرے میں شامل نہیں تھے۔ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ گورنر نے حالیہ فلم دھورندر پر تنقید اور پابندی کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلم پر تنقید کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی کوششوں کے دوران جموں و کشمیر پولیس، فوج اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز شدید دباؤ میں کام کر رہی ہیں، جبکہ نظام سے وابستہ منفی عناصر کو بھی ہٹایا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر