
بغداد،23مارچ(ہ س)۔عراق کے وسطی علاقے جرف الصخر میں اتوار کی شام الحشد الشعبی تنظیم کے مراکز پر تین حملوں کے بعد، ایران نواز مسلح گروہ حزب اللہ بریگیڈز نے پیر کے روز بغداد میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ نہ بنانے کے فیصلے میں پانچ دن کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔تاہم تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ وہ دشمن کی خلاف ورزیوں سے نمٹے گی اور ان کا جواب دینے کے طریقہ کار سے ثالث کو آگاہ کر دے گی، جن میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) میں پیش آنے والے واقعات بھی شامل ہیں۔دوسری جانب اس گروہ نے بغداد میں انٹیلی جنس سروس کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے ڈرون حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔جرف الصخر بیس پر جسے جرف النصر بھی کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر حزب اللہ بریگیڈز کے جنگجو تعینات ہیں جن کے الحشد الشعبی ملیشیا میں اپنے بریگیڈز موجود ہیں۔ تنظیم کے ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے فرانس پریس کو تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شام ہونے والے حملوں کا ہدف ایران نواز بریگیڈز ہی تھے۔گذشتہ جمعرات کی صبح حزب اللہ بریگیڈز نے بعض شرائط کے ساتھ پانچ دن کے لیے امریکی سفارت خانے پر حملے روکنے کا عہد کیا تھا۔ ان شرائط میں یہ شامل تھا کہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافی علاقے ضاحیہ سے لوگوں کی بے دخلی اور بمباری بند کرے، بغداد اور دیگر صوبوں کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری نہ کرنے کا عزم کرے اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے اہل کاروں کو ان کے اسٹیشنوں سے نکال کر سفارت خانے تک محدود کیا جائے۔تنظیم نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ دشمن کی جانب سے عدم تعمیل کی صورت میں مدت ختم ہونے کے بعد حملوں کی شدت بڑھاتے ہوئے براہِ راست اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔فرانس پریس کے مطابق اس اعلان کے بعد سے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی۔واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد سے عراق بھی ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں یہ جنگ پھیل چکی ہے۔ تہران نواز عراقی مسلح گروہوں کے مراکز پر مسلسل فضائی حملے ہو رہے ہیں، جبکہ امریکی مفادات بشمول سفارت خانے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عراقی فوج نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ سفارتی مراکز کو نشانہ بنانے سے ملک علاقائی تنازع کا شکار ہو جائے گا۔دریں اثنا ایران ملک کے شمالی حصوں میں مخالف کرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ جبکہ ایران نواز عراقی گروہ جو خود کو اسلامی مزاحمت عراق کہتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر عراق اور خطے میں امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کا دعویٰ کرتے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan