
تہران،23مارچ(ہ س)۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے چوتھے ہفتے میں مسلسل جاری رہنے کے دوران اسرائیلی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے ان ایرانیوں سے رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے جنہیں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل ہے۔ ایجنسی نے ٹیلی گرام ایپ پر اپنے فارسی زبان کے چینل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر آپ کو جوہری صنعت کے شعبے میں معلومات تک رسائی حاصل ہے تو ہم سے بات کریں، ہمارے ساتھ آپ کا مستقبل محفوظ رہے گا۔ ہم سے محفوظ چینل کے ذریعے رابطہ کریں۔”یروشیلم پوسٹ “ کے مطابق موساد کی یہ کال تہران کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ہفتے کے روز نطنز کی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا۔ موساد نے 28 فروری کی صبح ٹیلی گرام پر اپنا خصوصی چینل اس وقت شروع کیا تھا جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔ موساد نے چینل کے آغاز کے اعلان میں اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام اکیلے نہیں ہیں۔ موساد نے ایرانیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ نظام کے خلاف اپنی منصفانہ جدوجہد کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کریں۔جنگ کے آغاز سے ہی اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پوسٹس نشر کر رہی ہے جس میں ایرانیوں سے تصاویر بھیجنا جاری رکھنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے باخبر ذرائع نے بتایا کہ عام ایرانی شہریوں نے اسرائیل کو معلومات بھیجنا شروع کر دی ہیں۔ وال سٹریٹ جنرل کے مطابق بھیجی گئی معلومات میں ایسی تفصیلات شامل تھیں جن کی مدد سے اسرائیلی ” ہرمیس “ ڈرون نے دارالحکومت تہران میں باسیج ملیشیا کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔اسرائیل کی یہ بار بار کی کالز ایرانی حدود کے اندر اسرائیلی دراندازی کے بڑھتے ہوئے شواہد کے ساتھ سامنے آئی ہیں۔ یہ کالز گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران ایران کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی رہنماوں کی درجنوں ٹارگٹ کلنگ کے بعد بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ ایک واضح انٹیلی جنس دراندازی ہے۔یہ دراندازی سوشل میڈیا پر حال ہی میں پوکیمون گو (Pokémon GO) گیم کے بارے میں پیدا ہونے والے شور کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس نے 2016 سے اب تک آگمنٹڈ رئیلٹی ٹیکنالوجی پر انحصار کیا اور بعد میں سکیننگ یا فیلڈ ریسرچ سکینز یا اے آر میپنگ کے نام سے ایک اختیاری خصوصیت شامل کی جہاں کھلاڑی موبائل کیمرے سے اس جگہ کو سکین کرتا ہے جہاں وہ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ موبائل کے ساتھ 360 ڈگری گھومتا ہے اور مختلف زاویوں، اوقات، روشنیوں اور موسموں میں جگہ کی تصویر کشی کرتا ہے۔نیانٹک (Niantic) کمپنی نے اعلان کیا کہ یہ ڈیٹا صرف اے آر اور عالمی نقشوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ 30 ارب سے زیادہ تصاویر جمع کی گئیں اور دنیا بھر میں 10 ملین سے زیادہ مقامات کی نشاندہی کی گئی۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ اس نے کمپنی کے ایک حصے کو نیانٹک لیبز کے نام سے الگ کر دیا ہے اور یہ ڈیٹا ایک مصنوعی ذہانت کے ماڈل کو تربیت دینے کے لیے فروخت کیا ہے۔ اس ماڈل کو ورچوئل پوزیشننگ سسٹم ( وی پی ایس ) یا لارج جیو سپیٹل ماڈل ( ایل جی ایم ) کہا جاتا ہے۔ یہ ماڈل روبوٹس (جیسے کھانا پہنچانے والے روبوٹس) کو اپنی جگہ کی درست شناخت کرنے میں مدد دیتا ہے چاہے جی پی ایس سگنل کمزور ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کھلاڑی اپنے موبائل کیمروں سے اور محض کھیل کے مزے کے بدلے تاریخ کا سب سے بڑا بصری- مقانی ڈیٹا بیس جمع کرنے میں کامیاب رہے۔ اس چیز نے بعض لوگوں کو ان ویڈیوز اور تصاویر کے درمیان تعلق جوڑنے پر مجبور کر دیا جن کی موساد درخواست کر رہا ہے اور جو کچھ پوکیمون گیم کے ساتھ ہوا اگرچہ ان دونوں کے درمیان کوئی براہ راست تعلق موجود نہیں ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan