
تہران،23مارچ(ہ س)۔ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دے دی ہے۔آج پیر کے روز اس مہلت کو 24 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزرنے کے بعد ٹرمپ نے اپنے انتباہات کو دہرایا ہے کہ اگر ایران نے اس اہم گزرگاہ کو نہ کھولا تو وہ اسے تباہ کر دیں گے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔بعض مبصرین کے مطابق ٹرمپ جو مخالفین اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں، اس سے قبل گذشتہ موسم گرما میں بھی ایران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دے چکے تھے، جس کے بعد گذشتہ جون میں وہاں بم باری کی گئی تھی۔اسی طرح طاقت کے ذریعے امن پر یقین رکھنے والے امریکی صدر نے گذشتہ فروری میں تہران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے سودمند سمجھوتا کرنے یا برے حالات کا سامنا کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، جبکہ خطے میں امریکی عسکری نقل و حرکت جاری تھی اور پھر 28 فروری کو جنگ چھڑ گئی۔اس کے علاوہ انہوں نے وینزویلا کو بھی دھمکی دی تھی اور دسمبر 2025 کے اوائل میں صدر نکولس مادورو کو ایک ٹیلی فون کال کے دوران موقع دیا تھا، جس کے بعد 3 جنوری کو کاراکاس سے ان کی گرفتاری کا آپریشن عمل میں لایا گیا۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جواب دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے۔ انہوں نے گذشتہ روز اتوار کی شام اپنے ایکس اکاو¿نٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا آبنائے ہرمز بند نہیں ہے، لیکن بحری جہاز سفر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ انشورنس کمپنیاں اس جنگ سے خوف زدہ ہیں جس کی ابتدا آپ نے کی ہے، ایران نے نہیں، ان کا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف تھا۔عراقچی نے مزید کہا تجارت کی آزادی کے بغیر جہاز رانی کی آزادی ممکن نہیں ہے۔ دونوں کا احترام کریں... ورنہ کسی ایک کی بھی توقع نہ رکھیں۔واضح رہے کہ پاسدارانِ انقلاب اور کئی ایرانی حکام نے واضح طور پر اشارہ دیا تھا کہ آبنائے ہرمز صرف دوست جہازوں کے لیے اور ایرانی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ہی کھلے گا، جو عباس عراقچی کی بات کے برعکس ہے۔اسرائیل نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ ایران کے خلاف لڑائی کے کئی ہفتوں کے لیے تیاری کر رہا ہے۔
جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ امریکہ کو جنگ ختم کرنے کے قابل ہونے کے لیے ایران کے خلاف اپنے حملوں میں تیزی لانی پڑ سکتی ہے۔نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے گذشتہ شام اس مکمل یقین کا اظہار کیا کہ ان کا اتحاد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں کامیاب ہو جائے گا۔یاد رہے کہ ایران نے گذشتہ روز آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس سے ایک روز قبل امریکی صدر کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اگر تہران نے دو دن کے اندر اس تزویراتی آبنائے کو نہ کھولا تو ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز تین ہفتے قبل جنگ کے آغاز سے ہی عملی طور پر بند ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آج بھی اسی دھمکی کو دہراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب اسی سطح کی روک تھام سے دینے کے لیے پرعزم ہے۔ امریکی افواج کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا گیا ہے اگر آپ نے بجلی کے گرڈ پر بم باری کی، تو ہم بھی بجلی کے گرڈز پر بم باری کریں گے۔مزید برآں یہ بھی کہا گیا کہ بجلی گھروں پر حملے کی صورت میں ایران اسرائیلی بجلی گھروں اور خطے میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والے اسٹیشنوں کو نشانہ بنا کر جواب دے گا۔عالمی گیس اور تیل کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کی گزرگاہ سے جہاز رانی کے حوالے سے ایرانی دھمکی نے دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan