پاسدارن انقلاب کا ٹرمپ کو جواب، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی
تہران،23مارچ(ہ س)۔ایران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے لہجے میں سختی لاتے ہوئے دھمکی دے دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا تو آ
پاسدارن انقلاب کا ٹرمپ کو جواب، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی


تہران،23مارچ(ہ س)۔ایران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے لہجے میں سختی لاتے ہوئے دھمکی دے دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ پاسداران انقلاب نے اپنے بیانات میں کہا کہ اگر ٹرمپ نے ایرانی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر عمل کیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ سپاہ نے مزید کہا اس طرح کے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس نے یہ بھی باور کرایا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو ان ملکوں میں توانائی کی تنصیبات جہاں امریکی اڈے موجود ہیں، جائز اہداف ہوں گے۔ انقلاب کی حفاظت کے لیے قائم تنظیم نے مزید کہا کہ جن کمپنیوں میں امریکی حصص ہیں، توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔سپاہ پاسداران انقلاب کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایک مقررہ مہلت کے اندر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایرانی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ٹرمپ نے عدم تعمیل کی صورت میں سخت اقدامات کا انتباہ دیا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کشیدگی کے پس منظر میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ برطانیہ کا یہ اعلان بڑھتے ہوئے بحران پر بین الاقوامی موقف میں اختلاف کی نشاندہی کر رہا ہے۔یاد رہے آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سٹریٹجک بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی اور اس سے وابستہ حملوں کے باعث بحری آمد و رفت تقریباً مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ اس کا اثر قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران یورپ میں گیس کی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا جو 1970 کی دہائی کے بعد سے توانائی کی منڈی میں آنے والے شدید ترین بحرانوں میں سے ایک ہے۔ خدشہ ہے کہ تناو¿ جاری رہنے یا پھیلنے کی صورت میں اس بحران کے اثرات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande