بھوپال میں مندر کے باہر بوری میں مویشیوں کے باقیات ملے ، ہندو تنظیموں نے سڑک بند کی
بھوپال، 23 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں اتوار کی دیر رات ایک حساس واقعہ سامنے آیا، جب تلیا تھانہ علاقے میں کالی مندر کے باہر ایک سفید بوری میں مویشیوں کے باقیات برآمد ہوئے، جس سے علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ہندو
Bhopal-temple-cattle-remains-Hindu-organizations-b


بھوپال، 23 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں اتوار کی دیر رات ایک حساس واقعہ سامنے آیا، جب تلیا تھانہ علاقے میں کالی مندر کے باہر ایک سفید بوری میں مویشیوں کے باقیات برآمد ہوئے، جس سے علاقے میں ہلچل مچ گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ہندو تنظیموں کے کارکن جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور احتجاج کرتے ہوئے مین سڑک بلاک کر دی۔

احتجاج کر رہے ہندو تنظیم جئے ماں بھوانی کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ بوری میں ایک گائے کی باقیات ہیں اور اس کی گردن کٹی ہوئی تھی، جس سے گائے کے ذبیحہ کا شبہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک پر دھرنا دیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج کے باعث ٹریفک میں خلل پڑا۔

اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ افسران نے مظاہرین کو سمجھایا اور یقین دلایا کہ معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جائے گی اور جلد ہی ملزمان کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ ان یقین دہانیوں کے بعد احتجاج ختم ہوا اور ٹریفک بحال ہو گئی۔ بھانو ہندو کی شکایت پر پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جارہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ بوری کس نے رکھی اور اس واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح مندر کے باہر باقیات پھینکنا سماجی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ تنظیم کے سربراہ بھانو ہندو نے بتایا کہ بوری میں بند گائے کی گردن کٹی ہوئی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گائے کو ذبح کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جائے اور مجرموں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ ادھر ہندو اتسو سمیتی کے صدر چندر شیکھر تیواری نے اسے نوراتری کے دوران شہر کا ماحول خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔

پولیس حکام کے مطابق کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کی جارہی ہے، جلد حقیقت سامنے آجائے گی۔ کارروائی نہ کی گئی تو پوری ہندو برادری سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔ انہوں نے پرانے شہر میں دیر رات تک کھلی دکانوں پر بھی اعتراض کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande