
تہران،22مارچ(ہ س)۔ایک ایرانی عسکری ذریعے نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی جزیرہ خارگ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تو تہران بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سکیورٹی کو تہہ و بالا کر دے گا۔ایران کی ’تسنیم‘ نیوز ایجنسی نے ایک نامعلوم عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر امریکہ نے جزیرہ خارگ پر فوجی جارحیت کی اپنی دھمکیوں پر عمل کیا تو اسے ایران کے اچانک ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔مذکورہ ذریعے نے خبردار کیا کہ ’باب المندب اور بحیرہ احمر سمیت دیگر آبی گزرگاہوں میں بدامنی پھیلانا مزاحمتی بلاک کے پاس دستیاب آپشنز میں سے ایک ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں کے لیے صورتحال آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جائے گی۔ایرانی موقف کے مطابق امریکیوں کو اس وقت آبنائے ہرمز اور ایران کی تیل کی تنصیبات کے حوالے سے ایک بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ ایک طرف انہوں نے آج سنہ 1979ءکے بعد پہلی بار ایران پر سے تیل کی پابندیاں ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور دوسری طرف وہ دنیا کے تیل کے بحران کو حل کرنے کے لیے جزیرے پر حملے کی بات کر رہے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی یہ دونوں حکمت عملیاں ایک دوسرے کے بالکل متصادم ہیں۔ اگر امریکیوں نے جزیرہ خارک پر حملہ کیا تو اول تو تیل کی پیداوار عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے، دوم ایران خطے کی تمام تنصیبات کو آگ لگا دے گا جس سے امریکہ اور پورے خطے کے لیے حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے اور سوم یہ کہ امریکیوں کے پاس اس جزیرے پر قبضہ برقرار رکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور انہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔یہ دھمکیاں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب وائٹ ہاوس نے گذشتہ جمعہ کے روز تصدیق کی تھی کہ امریکہ اگر چاہے تو وہ کسی بھی وقت جزیرہ خارک پر قبضہ کر سکتا ہے۔ یہ بیان ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس علاقے پر کنٹرول یا اس کے محاصر کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے جہاں سے ایران کی خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ تہران پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دباو ڈالنے کی غرض سے خارک کے خلاف آپریشن پر غور کر رہے ہیں، جسے ایران نے تقریباً مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔ امریکہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں اضافی میرینز فورسز بھی تعینات کر رہا ہے، جو امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز کے تین ہفتے بعد ممکنہ زمینی کارروائی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔وائٹ ہاوس کی نائب ترجمان آنا کیلی نے ایکسیوس کی رپورٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ اگر صدر حکم دیں تو امریکی فوج کسی بھی وقت جزیرہ خارک پر قبضہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کو مفلوج کر دیا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ نے گذشتہ جمعہ کو ہونے والے حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکہ نے جزیرہ خارک میں تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش جاری رکھی تو جزیرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ گذشتہ جمعرات کو امریکی صدر نے جزیرہ خارک کو تیل کا ایک چھوٹا سا جزیرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حملوں نے پائپ لائنوں کے علاوہ سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan