آپ کے چاروں اراکینِ اسمبلی کی معطلی واپس لی جائے، ورنہ اپوزیشن ایوان کا بائیکاٹ کرے گی: آتشی
نئی دہلی، 22مارچ(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کی سینئر رہنما اور ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی نے اسمبلی اسپیکر سے پارٹی کے معطل شدہ چاروں اراکینِ اسمبلی کی معطلی فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر معطلی واپس نہ
آپ کے چاروں اراکینِ اسمبلی کی معطلی واپس لی جائے، ورنہ اپوزیشن ایوان کا بائیکاٹ کرے گی: آتشی


نئی دہلی، 22مارچ(ہ س)۔عام آدمی پارٹی کی سینئر رہنما اور ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی نے اسمبلی اسپیکر سے پارٹی کے معطل شدہ چاروں اراکینِ اسمبلی کی معطلی فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر معطلی واپس نہیں لی گئی تو اپوزیشن بجٹ اجلاس کا مکمل بائیکاٹ کرے گی اور آپ کا کوئی بھی رکن ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔انہوں نے کہا کہ چاروں اراکین کو صرف اس لیے معطل کیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے ایک ساتھی رکن کو ایوان میں داخل ہونے سے روکے جانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ پہلے انہیں تین دن کے لیے، پھر پورے سیشن کے لیے معطل کیا گیا، لیکن اب تک ان کی معطلی ختم نہیں کی گئی۔ اس وجہ سے انہیں اسمبلی احاطے میں داخلے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے راج میں ایوان میں آپ کو عوام کی آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو ہم سڑکوں پر یہ آواز بلند کریں گے۔اتوار کو آپ ہیڈکوارٹر میں رکن اسمبلی اجے دت کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آتشی نے کہا کہ ہمارے آئین نے ایک خاص نظام قائم کیا ہے جس کے تحت انتظامیہ (ایگزیکٹو) اور مقننہ (لیجسلیچر) یعنی حکومت اور اسمبلی یا پارلیمنٹ کو الگ رکھا گیا ہے۔ آئین میں یہ نظام اس لیے بنایا گیا کیونکہ انتظامیہ صرف برسرِ اقتدار جماعت کی ہوتی ہے، جبکہ مقننہ صرف حکومت کی نہیں ہوتی بلکہ اس میں اپوزیشن کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں اس لیے قائم کی گئی ہیں تاکہ عوام کے منتخب نمائندے وہاں بیٹھ کر عوام کی آواز اٹھا سکیں، حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھا سکیں اور حکومت کی کوتاہیوں کو عوام اور حکومت کے سامنے لا سکیں۔آتشی نے کہا کہ ہمارے آئین میں اپوزیشن کو بہت اہم مقام دیا گیا ہے، لیکن بی جے پی ہر سطح پر اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن رہنماوں پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ دباو میں آکر بی جے پی میں شامل ہو جائیں، اور دوسری طرف پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے اندر بھی اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی اسمبلی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ جب سے دہلی میں بی جے پی کی حکومت بنی ہے، اسمبلی میں اپوزیشن کے ساتھ دوہرا رویہ اپنایا جا رہا ہے اور جو اپوزیشن عوام کی آواز اٹھاتی ہے اسے مسلسل دبایا جا رہا ہے۔آتشی نے کہا کہ آٹھویں اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں اسپیکر نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو دہلی اسمبلی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ نہ صرف اپوزیشن اراکین کو ایوان سے باہر نکالا گیا بلکہ انہیں اسمبلی احاطے سے بھی باہر کر دیا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور سی آر پی ایف تعینات کی گئی تاکہ اپوزیشن کے اراکین اندر داخل نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں عام آدمی پارٹی کے چار اراکین،براڑی کے سنجیو جھا، کونڈلی کے کلدیپ کمار، تلک نگر کے جرنیل سنگھ اور صدر بازار کے سوم دت،کو بلاوجہ معطل کر دیا گیا۔

اپوزیشن کا کام حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنا اور عوام کے مسائل کو ایوان میں اٹھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی یہی کام کر رہی ہے کیونکہ دہلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ جگہ جگہ سیور اوور فلو ہو رہے ہیں اور پانی کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔اجے دت نے کہا کہ ہم بی جے پی کے وعدوں کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں، جیسے 2500 روپے کی گارنٹی اور ہولی-دیوالی پر مفت سلنڈر۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک دن ایوان میں داخل ہونے سے روکنے پر احتجاج کرنے کی وجہ سے چار اراکین کو سزا دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت اس طرح منتخب نمائندوں اور اپوزیشن کو سزا دے گی تو ایوان میں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ ہم سڑکوں پر ہی عوام کی آواز اٹھائیں گے۔اجے دت نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ چاروں معطل اراکین کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور انہیں بجٹ اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمیں سڑکوں پر اپنی پارلیمنٹ لگانی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی دہلی کے عوام کی آواز کو نہیں دبا سکتی اور جب تک عام آدمی پارٹی موجود ہے، ہم عوام کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande