
۔ بارگاہ خداوندی میں خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں
۔سخت سیکورٹی اور ڈرون کیمروں کی نگرانی کے درمیان لوگوں نے ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دی
وارانسی، 21 مارچ (ہ س)۔ اتر پردیش کے مذہبی شہر وارانسی میں ہفتہ کو عید الفطر (عید) کا تہوار بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔ مسلمان عقیدت مندوں نے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ضلع کی مساجد اور عیدگاہوں میں عقیدت کے ساتھ نماز عید ادا کی۔
نماز کے بعد ملک میں امن و سلامتی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگی گئیں۔ کئی مقامات پر ایران کی حمایت میں مغربی ممالک سے آنے والی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیلیں بھی کی گئیں۔ اس کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی۔ عید کے موقع پر لوگ صبح سویرے ہی نہانے، نئے کپڑے پہن کر اور عطر کی خوشبولگاکر نماز ادا کرنے کے لیے مسجدوں میں پہنچنا شروع ہو گئے۔ میلے میں بچوں اور نوجوانوں کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ ضلع کی مختلف مساجد اور عیدگاہوں میں صبح 6.30 سے 10.30 بجے کے درمیان نمازیں ادا کی گئیں۔سب سے آخر میں نئی سڑک پر واقع مسجد لنگڑے حافظ میں نماز عید ادا کی گئی۔
شہر کی عیدگاہوں للا پورہ، فاطمان اور لوہتا میں نماز عید صبح ادا کی گئی۔ چوکھمبا میں واقع عالمگیر مسجد، گیانواپی مسجد اور کھجور والی نئی مسجد اور کاشی ودیا پیٹھ کی عیدگاہ میں نمازیوں کی بھیڑ جمع ہوئی۔ مسجد لاٹ سرائیاں، عیدگاہ پرانہ پل پلکوہانہ، عیدگاہ گوگا کا باغ جلالی پورہ، عیدگاہ شکر تالاب اہلحدیث جماعت، عیدگاہ مسجد لنگر واقع نواپورہ جی ٹی روڈ، مسجد شہید بابا واقع سرائیاں بازار،مسجد سنی امام باڑی سریا،شیعہ حضرات امام باڑہ سرائیاں، سرائیاں پکا محل میں واقع بڑی مسجد،خانقاہ حمیدیہ شکرتالاب، امیلیا تلے چھتن پورہ مسجد، پٹھانیٹولا میں واقع ڈھائی کنگورے مسجد، بڑی مسجد قاضی داللہ پورہ ، مسجد عثمانیہ عثمان پورہ،جامع مسجد کمل گڑھہا، نئی مسجد شیعہ حضرات دوشی پورا،مینار والی مسجد کمال پورہ میں عید کی نماز ادا کی گئی ۔
نماز کے دوران سییورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے بھی لوگوں سے گلے مل کر انہیں عید کی مبارکباد دی۔ بچوں نے پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دی تو اہلکاروں نے انہیں گود میں بٹھا کر پیار کیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد بچوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھلونے اور غبارے خریدے۔ تہوار پر لوگوں نے گھر کے بنے پکوان اور سیویاں، لذیذ پکوانوں سے لطف اندوز ہوئے۔ پکوانوں اور دعوتوں میں رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ دوستوں اور خیر خواہوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔دعوتوں کا دور چلتا رہا اور لوگ ایک دوسرے کے گھر جاتے رہے۔ ہندو بھی اپنے مسلمان دوستوں سے ملنے میں پیچھے نہیں رہے۔چھوٹے بچوں میں تہوار کے تئیں زیادہ جوش و خروش نظر آیا۔
- اہل خانہ اور رشتہ داروں کو دی عیدی
عید کے ساتھ ساتھ اپنے عزیزوں کو بھی عیدی دی گئی۔ لوگوں نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو کپڑے کے علاوہ خاص طور پر سیویاں جیسی کھانے کی اشیا دیں۔سوشل میڈیا پر بھی عید کی خوشیاں نظر آئیں۔ سوشل سائٹس پر مبارکباد دینے کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ کوئی ویڈیو کے لنک کے ذریعے تو کوئی فون، فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے اپنے پیاروں کو مبارکباد دے رہا تھا۔
- نمازیوں کا پھولوں کی بارش کے ساتھ استقبال کیا گیا
وارانسی میں، عید کے موقع پر، نمازی اس وقت بہت خوش ہو گئےجب شہر کی مختلف مساجد سے وہ نماز پڑھ کر نکلے تو محلے کے ہندوس نوجوانوں اور سماجی تنظیم کے کارکنوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ انہوں نے اس موقع پر نمازیوں کو گلے لگا کر مبارکباد دی اور نمازیوں نے اظہار تشکر کیا۔ سماجی کارکن محمد زبیر خان نے کہا کہ آج ہماری عید کی خوشیاں اس وقت دوبالا ہو گئیں جب ہمارے ہندو بھائیوں نے عید کی نماز کے بعد پھولوں سے استقبال کیا، یہ ہمارا حقیقی مشترکہ ورثہ ہے۔ نفرت کے اس دور میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا سلوک کرنا چاہیے تاکہ ہر جگہ محبت ہو اور نفرت کا خاتمہ ہو، یہ دنیا نفرت کے آخری مراحل میں ہے، اس میں نفرت کے سوا کوئی چیز نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد