
چھتی سنگھ پورہ 26 برس گزر جانے کے باوجود متاثرہ سکھ برادری انصاف سے محروم
جموں، 21 مارچ (ہ س)۔ وادی کشمیر کے اننت ناگ کے گاؤں چھتی سنگھ پورہ میں سنہ 2000 میں پیش آئے المناک قتلِ عام کو 26 برس گزر جانے کے باوجود متاثرہ سکھ برادری انصاف سے محروم ہے۔ سانحہ کی برسی پر ایک بار پھر ازسرِنو تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔بتا دیں کہ 20 مارچ 2000 کو دہشت گردوں نے گاؤں میں 35 بے گناہ سکھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعہ نے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، تاہم آج تک اس کیس کی حقیقت مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکی۔
آل پارٹیز سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی دوبارہ شفاف تحقیقات کرائی جائے۔ کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور انہیں ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ چھتی سنگھ پورہ اور براکپورہ واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہے۔
کمیٹی کے مطابق ماضی میں کچھ افراد کو دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کیا گیا، مگر بعد میں وہ بے گناہ ثابت ہوئے، جس سے تحقیقات پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔سکھ برادری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اصل مجرموں کو بے نقاب کر کے انہیں سخت سزا دی جائے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے میں پیش رفت نہ ہوئی تو یہ انصاف کی سنگین ناکامی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی جانب سے کیے گئے وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے، اس لیے مرکز اور یو ٹی انتظامیہ کو اس کیس میں سنجیدہ اور شفاف کارروائی کرنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر