مستقبل کی ڈیجیٹل بنیادوں کو مضبوط بنانا
اس مضمون میں امریکی اسپیکر جیمس ای لیرمس وضاحت کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل خواندگی اور مضبوط سائبر سلامتی کس طرح اختراع، کاروبار اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بناتی ہے۔کریتیکا شرما اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلیایسے میں جب کہ امریکہ اور ہندوستان
مستقبل کی ڈیجیٹل بنیادوں کو مضبوط بنانا

اس مضمون میں امریکی اسپیکر جیمس ای لیرمس وضاحت کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل خواندگی اور مضبوط سائبر سلامتی کس طرح اختراع، کاروبار اور اہم بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بناتی ہے۔

کریتیکا شرما
اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی
ایسے میں جب کہ امریکہ اور ہندوستان ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے ، سپلائی چین ، مالیاتی نظام اور مصنوعی ذہانت سے متصف پلیٹ فارموں پر تعاون بڑھا رہے ہیں تو آن لائن سلامتی کو صرف سرحدوں تک محدود نہیں رکھا جاسکتا ۔ ایسا اس لیے ہے کہ ایک جگہ کی کمزوری دوسری جگہ بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اس لیے ان نظاموں کی حفاظت معاشی استحکام اور تکنیکی دفاع دونوں کے لیے ضروری ہے۔ سائبر سلامتی کے ماہر جیمس ای لیرمس بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ اعتماد سے شروع ہوتا ہے۔ لیرمس نے امریکی محکمہ خارجہ کے اسپیکر پروگرام کے تحت کولکاتہ اور حیدر آباد کا دورہ کیا۔ وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ جب ہم کریڈٹ کارڈ کا استعمال کریں تو ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ہمارے اور دکاندار یا بینک کے درمیان کوئی ہماری معلومات حاصل کرکے ہماری رقم کو ڈیجیٹل طور پر ہڑپ نہیں سکتا۔ ‘‘وہ کہتے ہیں کہ اس یقین کا انحصار مضبوط خفیہ کاری (انکرپشن ) پر ہے جو موجودہ دور کے انتہائی طاقتور کمپیوٹروں کے حملوں کو بھی برداشت کرسکتی ہے۔ ’کوانٹم کمپیوٹنگ ‘ میں پیش رفت کے ساتھ ماہرین ابھی سے ایسے حل تلاش کر رہے ہیں تاکہ آنے والے نظام بھی محفوظ رہ سکیں۔معاشی استحکام کے لیے سائبرسکوریٹی کی حیثیت بطور بنیادی ڈھانچہاگرچہ بہت سے افراد سائبر سکوریٹی کو ایک خالص تکنیکی شعبہ سمجھتے ہیں مگر لیرمس اس نقطہ نظر سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ وہ استفسار کرتے ہیں ’’ اگر کمپیوٹر ہی نہ ہوتے تو سائبر سکوریٹی کے مسائل بھی نہ ہوتے ۔ کیا ایسا نہیں ہے؟‘‘ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ آج کی روز مرہ زندگی ڈیجیٹل نظاموں پر انحصار کرتی ہے ، اس لیے سائبر سکوریٹی کی اہمیت پیدا ہوگئی ہے۔
پرڈو یونیورسٹی میں، جہاں وہ گریجویٹ فیکلٹی کے طور پر متعین ہیں، سائبر سکوریٹی کو بین شعبہ جاتی میدان سمجھا جاتا ہے ۔ انجینئر چِپ کے فرم ویئر پر کام کرتے ہیں ، پالیسی ماہر رازداری کے معیار کا تجزیہ کرتے ہیں اور فلسفی ڈیٹا کے استعمال سے متعلق اخلاقی مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسے ان کے الفاظ مستعار لے کر یوں کہا جا سکتا ہے ’’ سائبر سکوریٹی ایک ٹیم اسپورٹ ہے اور یہ متعدد شعبہ جات پر محیط ہے۔ ‘‘یہ خیال رہے کہ خطرات صرف بینک کھاتوں تک محدود نہیں ہیں۔ جدید زراعت جی پی ایس سے چلنے والے ٹریکٹرس پر منحصر ہے اور پانی صاف کرنے والے تنصیبات انٹرنیٹ سے جڑے کنڑول سسٹم پر انحصار کرتے ہیں ۔ اگر یہ نظام متاثر ہوں تو خوراک کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے یا پانی اور صفائی کے نظام ناکام ہوسکتے ہیں ۔ یہ چیزیں اس کی وضاحت کرتی ہیں کہ سائبر سکوریٹی روزمرہ کی زندگی پر کس قدر اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسے جیسے معیشتوں کا انحصار ڈیجیٹل دنیا پر ہوتا جارہا ہے ، ان نظاموں کا تحفظ معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کا حصہ بنتا جاتا ہے۔ نئے خطرات سے خبردار رہنے کے لیے لیرمس نئے معیارات کا تجربہ کرتے ہیں جن کو ’ پوسٹ کوانٹم کرپٹو گرافی ‘ کہا جاتا ہےاور ان کا ڈیزائن اس طور پر تیار کیا گیا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی ترقی کے باوجود یہ محفوظ رہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بغیر روز مرہ کی زندگی میں خلل ڈالے یا جدّت کی رفتار کو سست کیے ہوئے مستقبل کے تحفظات مضبوط ہوں۔ اشتراکی حفاظتی ڈھانچہلیرمس مصنوعی ذہانت والے موجودہ ماحول کو ’’ کسی حد تک وحشی مغرب والا‘‘ قرار دیتے ہیں جہاں رفتار مواقع تو پیدا کرتی ہے مگر اس کے دامن میں خطرات بھی ہوتے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کے لیے سائبر سکوریٹی میں تعاون کی حیثیت ایک عملی ضرورت کی ہے۔ دونوں ملک تیزی کے ساتھ اپنے اہم بنیادی ڈھانچوں کو ڈیجیٹل قالب میں ڈھال رہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں ۔ معیارات ، تحقیق اور تربیت کو مضبوط کرنا خطرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں جانب اقتصادی مضبوطی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ لیرمس کے مطابق یہ تعاون ’’ رشتوں اور باہمی فوائد پر مبنی ہوتا ہے ، خواہ وہ اداروں کے درمیان ہو یا افراد کے درمیان۔‘‘امریکہ اور ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے درمیان تبادلے شراکت داروں کو ایسے منصوبوں سے شروعات کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو مرکوز اور قابلِ حصول ہوں۔ لیرمس مزید کہتے ہیں ’’ کچھ شعبوں میں ہمیں چھوٹے منصوبوں سے شروع کرنا چاہیے اور انہیں کامیاب بنانا چاہیے، کیونکہ کامیابی کی طرح کوئی چیز نہیں بکتی۔‘‘یہ ابتدائی شراکت داری دونوں جانب کی تکمیلی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی ادارے مخصوص مہارت اور تحقیقی وسائل مہیا کرتے ہیں، جبکہ ہندوستانی شراکت دار وسعت اور فوری نفاذ کی صلاحیت سے متصف ہوتے ہیں۔
طلبہ کے مشترکہ منصوبے اور مشترکہ تحقیقی ترجیحات علمی علم کو عملی نتائج میں ڈھالتی ہیں اور مستقبل کے سائبر سکوریٹی پیشہ ور افراد کی تیاری کا ذریعہ بنتی ہیں۔روزمرہ کی زندگی میں سائبر سلامتیسب سے مضبوط حفاظتی نظام بھی انفرادی رویے پر منحصر ہوتے ہیں۔ سادہ عادات جیسے غیر متوقع ای میل پر سوال کرنا اور غیر محفوظ نیٹ ورکس سے پرہیز کرنا جیسی چیزیں بھی جب مستقل طور پر اپنائی جاتی ہیں تو اجتماعی مضبوطی کو فروغ دیتی ہیں۔ لیرمس نشاندہی کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا روز مرہ کی زندگی میں تیز رفتار انضمام نئے چیلنج پیدا کرتا ہے، خاص طور پر نوجوان صارفین کے لیے۔ وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’نئی نسل کے اندر کافی شعور اور تشخیص کی صلاحیت ہونی چاہیے کیوں کہ مصنوعی ذہانت ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوسکتی۔ بعض معاملات میں ایک جواب کی تلاش ان کے لیے مشکل بھرا معاملہ ہوسکتی ہےکہ وہ کسی جواب کو دیکھ کر کہیں کہ اس میں کچھ درست محسوس نہیں ہورہا۔‘‘جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے اوزار تعلیم، کام کی جگہوں اور عوامی خدمات میں شامل ہورہے ہیں تو ان کے نتائج پر سوال اٹھانے اور حدود کو پہچاننے کی صلاحیت خود سائبر سلامتی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔لیرمس نے کولکاتہ میں اپنی مصروفیات کے دوران ایک عملی مثال کا مشاہدہ کیا۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’میں نے ایک اسکول میں ایک دلچسپ حل دیکھا ۔ اسکول میں اخلاقی ہیکنگ پڑھائی جاتی ہے۔ اسکول میں ہر مہینے ایک خوبصورت کیلنڈر دیا جاتا ہے جس میں سائبر سلامتی کے لیے بعض ضروری نسخے شامل ہوتے ہیں۔
یاد دہانی کے یہ نکات سادہ ہیں
نامعلوم نیٹ ورک سے نہ جڑیں، غیر واضح پاس ورڈ استعمال نہ کریں اور الیکٹرانک آلات کو غیر محفوظ نہ چھوڑیں۔ لیرمس کہتے ہیں ’’ یہ بہت بنیادی چیزیں ہیں، اور میرا خیال ہے کہ لوگوں کو یاد دلانا چاہیے یا انہیں پہلی بار یہ سیکھنے کا موقع ملنا چاہیے، اگر کچھ اور نہ ہو۔‘‘یہ چھوٹی عادات ایک بڑی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں: سائبر سکوریٹی کی ثقافت فرد کی سطح سے شروع ہوتی ہے مگر اداروں اور قوموں تک پھیل جاتی ہے۔ امریکہ اور ہندوستان جیسے ملکوں کے لیے جو ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور تحقیقی شراکت داریوں کے ذریعے بڑھتی ہوئی حد تک جڑے ہوئے ہیں، سائبر سلامتی مختلف شعبوں اور سرحدوں کے پار جاری تعاون کا تقاضا کرتی ہے جو اعتماد ، جدت اور اقتصادی استحکام کو مضبوط بناتی ہے۔
ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande