این بی اے نے جارح غیر ملکی نسل پر ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی
نئی دہلی، 21 مارچ (ہ س)۔ نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) نے ''جارح غیر ملکی اقسام '' سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹی تشکیل دی ہے، جو ہندوستان کی ماحولیات اور زراعت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ قدم نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی)
این بی اے نے 'جارح غیر ملکی اقسام ' پر ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی


نئی دہلی، 21 مارچ (ہ س)۔

نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) نے 'جارح غیر ملکی اقسام ' سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹی تشکیل دی ہے، جو ہندوستان کی ماحولیات اور زراعت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ قدم نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی سخت ہدایات اور وزارت ماحولیات کے مشورے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے مطابق، یہ فیصلہ این جی ٹی کی درخواست نمبر 162/2023 کے از خود نوٹس کے بعد کیا گیا ہے۔ ٹربیونل نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اجنبی نسلیں نہ صرف ہماری آبائی حیاتیاتی تنوع کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ خوراک کی حفاظت، زراعت اور انسانی صحت کے لیے بھی اہم خطرہ ہیں۔ اس کی روشنی میں، این بی اے کو ایک جامع مطالعہ کرنے اور ایک اسٹریٹجک پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اس کمیٹی کی صدارت دھننجے موہن، آئی ایف ایس (ریٹائرڈ)، سابق پی سی سی ایف، اور چیف آف فارسٹ فورس، اتراکھنڈ کر رہے ہیں، جبکہ پروفیسر اے بیجو کمار، کیرالہ یونیورسٹی آف فشریز اینڈ اوشین اسٹڈیز کے وائس چانسلر، شریک چیئرمین کے طور پر کام کریں گے۔ کمیٹی میں اہم وزارتوں اور معروف سائنسی اداروں کے سینئر حکام اور نامور ماہرین شامل ہیں۔

این بی اے نے حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 کے تحت کمیٹی کو کئی اہم کام تفویض کیے ہیں۔ ان میں قومی انوینٹری کی تیاری، خطرے کی تشخیص، انتظامی حکمت عملی، اور تحقیق اور ڈیٹا شامل ہیں۔ جارح اجنبی انواع (جیسے لانٹانا، واٹر ہائیسنتھ وغیرہ) تیزی سے ہندوستانی جنگلات اور آبی ذخائر کو کھا رہی ہیں۔ اس کمیٹی کی دو سالہ میعاد ہندوستان کے عالمی حیاتیاتی تنوع کے وعدوں کو پورا کرنے اور ملک کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پوری حکومت کا نقطہ نظر نہ صرف ماحولیات کا تحفظ کرے گا بلکہ کسانوں کی آمدنی اور دیہی معاش کی بھی حفاظت کرے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande