
نیوز ایجنسی یو این آئی کے ہیڈ کوارٹر سے صحافیوں اور ملازمین کو پولیس نے زبردستی باہر نکالا، احاطہ سیل
نئی دہلی، 21 مارچ (ہ س)۔ ملک کی صحافتی دنیا میں جمعہ کی دیر شام ایک غیر متوقع واقعہ میں معتبر نیوز ایجنسی یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا (یو این آئی) کے احاطے کو دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں جوانوں کے ذریعے صحافیوں اور ملازمین پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے خالی کرا لیا گیا۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے پارلیمنٹ اسٹریٹ سے متصل 09 رفیع مارگ پر واقع احاطے سے یو این آئی کا آپریشن جاری تھا۔ دہلی ہائی کورٹ میں وزارتِ شہری ترقیات کی جانب سے الاٹمنٹ منسوخی کے بعد زیرِ التوا عرضی پر آج شام فیصلہ آنے کے کچھ گھنٹوں بعد، آناً فاناً میں کچھ سرکاری حکام بغیر کسی پیشگی نوٹس کے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے قریب 300 جوانوں و افسروں اور کچھ وکلاء کے ساتھ احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں کام کرنے والے صحافیوں و دیگر ملازمین پر فوراً نیوز روم خالی کر کے احاطے سے باہر جانے کا دباو ڈالنے لگے۔ جبکہ اس وقت خبریں ارسال کرنے کا کام عروج پر تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی عدالت کے حکم سے کی جا رہی ہے، لیکن وہ کوئی تحریری حکم نہیں دکھا سکے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر ملازمین آرام سے باہر نہیں نکلتے ہیں تو انہیں طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا۔ اس وقت تک ملازمین کو دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کی اطلاع نہیں مل سکی تھی۔ قابلِ ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے محکمہ شہری ترقیات کے لینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔
ملازمین کی جانب سے کچھ وقت دینے، کمپنی مینجمنٹ کے آنے کا انتظار کرنے کی درخواست اور نوٹس دکھانے کے مطالبے پر انہوں نے خواتین ملازمین سمیت کچھ ملازمین کو زبردستی گھسیٹ کر اور دھکا دے کر ان کی نشستوں سے ہٹایا اور نیوز روم سے باہر نکال دیا۔ اس دوران ان کے ساتھ گالی گلوچ بھی کی گئی۔
پولیس کے عملے نے احاطے کے گیٹ پر قبضہ کر لیا اور خبروں کے سلسلے میں باہر گئے صحافیوں اور مینجمنٹ کے افسران کو اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ وہ اپنا ذاتی سامان بھی نہیں نکال سکے۔
اس احاطے کو اچانک خالی کرائے جانے سے یو این آئی کی انگریزی، ہندی اور اردو سروس کے قریب 500 سے بھی زائد سبسکرائبرز کو خبروں کی ترسیل اچانک رک گئی۔ اس سے تاریخی نیوز ایجنسی کے وجود اور سینکڑوں ملازمین و ان کے خاندانوں کے مستقبل پر بھی تلوار لٹک گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن