
نئی دہلی، 21 مارچ (ہ س)۔
ہندوستان نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا کہ امریکہ کو ہندوستانی سرزمین سے ایران پر حملہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارت نے اسے گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا اور شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی۔
وزارت خارجہ کے آفیشل فیکٹ چیکنگ یونٹ نے واضح کیا کہ ہندوستان نے کسی بھی ملک کو کسی تیسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ایسی رپورٹس مکمل طور پر جعلی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وزارت خارجہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
یہ گمراہ کن دعویٰ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے مغربی ہندوستان سے ایران پر بمباری کے لیے فوجی وسائل استعمال کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ یہ دعویٰ اسے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ایل ای ایم او اے (لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ) سے جوڑ کر پیش کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، ایل ای ایم او اے ایک لاجسٹک تعاون کا معاہدہ ہے جس پر 2016 میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دستخط ہوئے تھے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریق ایک دوسرے کے فوجی اڈوں کو ایندھن بھرنے، مرمت، رسد کی فراہمی، مشترکہ مشقوں اور انسانی امداد جیسے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ایل ای ایم او اے کسی تیسرے ملک پر کسی قسم کی فوجی کارروائی یا حملے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ صرف ایک معاون انتظام ہے اور اس کا استعمال صرف رضامندی اور ضرورت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ