
تہران،21مارچ(ہ س)۔ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (اے ای او آئی) کا کہنا ہے کہ وسطی ایران میں واقع نطنز کی جوہری تنصیب کو آج صبح ایک بار پھر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں تنظیم نے کہا ہے کہ تابکار آلودگی سے متعلق ’تکنیکی اور ماہرین کی جانچ‘ مکمل کر لی گئی ہے اور نتائج کے مطابق ’اس تنصیب سے تابکار مواد کے کسی بھی اخراج کی اطلاع نہیں ملی، اور آس پاس کے رہائشی علاقوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘تنظیم نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’این پی ٹی (جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو¿ کے معاہدے) اور جوہری سلامتی و تحفظ سے متعلق دیگر ضابطوں کی خلاف ورزی‘ ہے۔
یاد رہے کہ اے ای او آئی اس سے قبل بھی نطنز پر حملے کی تصدیق کر چکی ہے اور اس کی جانب سے تین مارچ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ دو روز قبل (یکم مارچ) تنصیب پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی تابکار مواد کے اخراج کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا تھا۔گذشتہ سال جون میں امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات—نطنز، فردو اور اصفہان—پر بمباری کی تھی، اور بعدازاں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں نے ’ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا‘ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan