
کولکاتا، 21 مارچ (ہ س)۔ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مغربی بنگال میں 19 اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام کو مطلع کیا ہے۔ یہ ٹریبونل خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران ووٹر لسٹ میں ناموں کے اضافے یا حذف کرنے سے متعلق تنازعات کی سماعت کریں گے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے جمعہ کی رات جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 10 مارچ 2026 کے حکم اور کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سفارش کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔
تشکیل دیے گئے 19 ٹریبونلز میں سے 18 کی قیادت ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کریں گے، جب کہ ایک ٹریبونل کی سربراہی کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کریں گے۔اس وقت کے چیف جسٹس ٹی ایس شیوگننم کو کولکاتا کے علاقے سے متعلق معاملات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کے دائرہ اختیار میں کولکاتہ جنوبی، کولکاتا شمالی اور شمالی 24 پرگنہ کے انتخابی اضلاع کا احاطہ کرے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سپلیمنٹری ووٹرز لسٹ کی اشاعت کے بعد متعلقہ فریق ناموں کو شامل کرنے یا حذف کرنے سے متعلق جوڈیشیل افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل کر سکیں گے۔
اپیلیں دو طریقوں سے دائر کی جا سکتی ہیں۔ کمیشن کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا سب ڈویژنل آفیسر کے دفتر میں آف لائن درخواست جمع کر کے، جسے پھر ڈیجیٹل سسٹم پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹریبونل فوری طور پر کام کرنا شروع کر دیں گے اور متعلقہ اضلاع سے تمام اپیلیں نمٹانے کے بعد ان کی مدت خود بخود ختم ہو جائے گی۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ناموں کو شامل کرنے یا حذف کرنے سے متعلق تنازعات انتخابات کی ساکھ کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر مغربی بنگال جیسی سیاسی طور پر حساس ریاست میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ووٹرز کے اعتماد کو مضبوط کرنے اور انتخابی عمل کی ساکھ بڑھانے کے لیے اہم ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد