
اسمبلی انتخابات 2026 : شری رام پور میں ٹی ایم سی کا دبدبہ، بی جے پی کا ابھار اور سی پی آئی (ایم) کی جدوجہد نے مقابلے کو دلچسپ بنایا
ہگلی، 20 مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال کے شری رام پور اسمبلی حلقے میں 2026 کا دنگل دلچسپ ہونے کے آثار بن رہے ہیں۔ یہاں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان سہ فریقی مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ نشست ’نوجوان بمقابلہ تجربہ‘ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کی وجہ سے بھی خاصی بحث میں ہے۔
ٹی ایم سی نے اس نشست سے تنمے گھوش کو میدان میں اتارا ہے، جو پیشے سے کیمیکل انجینئر ہیں اور نسبتاً نوجوان چہرہ مانے جاتے ہیں۔ وہ اپنی تشہیر میں ترقی اور ریاستی حکومت کی اسکیموں کو اہمیت دے رہے ہیں۔
وہیں سی پی آئی (ایم) نے نونیتا چکرورتی کو امیدوار بنایا ہے، جو پوسٹ گریجویٹ ہیں اور نوجوان ووٹروں کے درمیان اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ سی پی آئی (ایم) کی ہمہ وقتی (فل ٹائم) وقف کارکن ہیں۔
ادھر، بی جے پی نے تجربہ کار لیڈر بھاسکر بھٹاچاریہ پر داو لگایا ہے، جو کلکتہ ہائی کورٹ کے وکیل ہیں اور طویل عرصے سے سرگرم سیاست میں رہے ہیں۔ پارٹی انہیں ایک تجربہ کار اور منظم قیادت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں ہی امیدوار تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے سیاسی طور پر سرگرم رہے ہیں، جس سے اس نشست پر مقابلہ مزید متوازن اور مسابقتی ہو گیا ہے۔
اگر گزشتہ انتخابی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2021 میں اس نشست پر ٹی ایم سی نے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر سدیپتو رائے کو 93,021 ووٹ (تقریباً 49.4 فیصد) ملے تھے، جبکہ بی جے پی کو 69,588 ووٹ (37 فیصد) حاصل ہوئے تھے۔ کانگریس کو 19,401 ووٹ (10.3 فیصد) ملے تھے اور ٹی ایم سی نے تقریباً 23,433 ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی تھی۔ سال 2016 میں بھی ٹی ایم سی نے تقریباً 43.7 فیصد ووٹ کے ساتھ جیت حاصل کی تھی، جبکہ کانگریس 38 فیصد اور بی جے پی کو 14 فیصد ووٹ ملے تھے۔
ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ 2016 سے 2021 کے درمیان ٹی ایم سی نے اپنی پوزیشن مضبوط کی، جبکہ بی جے پی نے بھی اپنے ووٹ شیئر میں نمایاں اضافہ کر کے خود کو مستحکم کیا۔ دوسری طرف، بائیں بازو کی جماعتوں کا ووٹ بینک کمزور ہوا، جسے اب سی پی آئی (ایم) دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس بار انتخاب میں نوجوان قیادت، پیشہ ورانہ پس منظر اور سیاسی تجربے کا امتزاج نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔ ٹی ایم سی اپنی گزشتہ برتری اور تنظیمی طاقت پر بھروسہ کر رہی ہے، بی جے پی تجربے اور مستحکم ووٹ بینک کے سہارے چیلنج دے رہی ہے، جبکہ سی پی آئی (ایم) نئے اور تعلیم یافتہ چہرے کے ذریعے اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس پانے کی کوشش میں ہے۔
مجموعی طور پر، شری رام پور اسمبلی نشست پر اس بار مقابلہ قریبی رہنے کے آثار ہیں اور کچھ ہزار ووٹوں کا فرق ہی ہار جیت کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن