
راجستھان میں بارش، اولوں اور کہرے سے سردی بڑھی
جے پور، 20 مارچ (ہ س)۔ ویسٹرن ڈسٹربنس کے اثر سے راجستھان میں موسم نے اچانک کروٹ لے لی ہے۔ دارالحکومت جے پور سمیت کئی اضلاع میں جمعہ کی علی الصبح سے تیز بارش کا دور شروع ہوا، جس سے درجہ حرارت میں گراوٹ آ گئی اور لوگوں کو مارچ میں ہی فروری جیسی ٹھنڈ کا احساس ہونے لگا۔ جے پور میں صبح تقریباً 3 بجے سے وقفے وقفے سے ہورہی بارش نے پورے شہر کو تر کر دیا ہے، وہیں سیکر میں رات بھر بونداباندی کے بعد صبح ٹھنڈی ہواوں اور گھنے بادلوں نے موسم کو مزید سرد بنا دیا۔
ٹونک ضلع کے سوپ علاقے میں جمعہ کی صبح چنے کے سائز کے اولے گرنے سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر مونگ کی فصل پر اس کا برا اثر پڑا ہے۔ کھیتوں میں کھڑی اور کٹی فصلیں دونوں ہی اس ژالہ باری کی زد میں آ گئیں۔ دوسری طرف سری گنگا نگر میں گھنا کہرا چھانے سے عوامی زندگی متاثر ہوئی۔ یہاں حدِ نگاہ (وزیبلٹی) 10 میٹر سے بھی کم رہی، جس کی وجہ سے گاڑی چلانے والوں کو دن میں بھی ہیڈ لائٹ جلا کر چلنا پڑا۔
جمعرات کو بھی ریاست کے کئی حصوں میں تیز آندھی، بارش اور ژالہ باری دیکھنے کو ملی تھی، جس کے باعث زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 11-10 ڈگری سیلسیس تک کی گراوٹ آ گئی۔ باڑمیر میں 16.7 ملی میٹر، الور میں 13.4 ملی میٹر، بیکانیر میں 5.6 ملی میٹر اور جیسلمیر میں 5.4 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اس تبدیلی کی وجہ سے فتح پور اور سری گنگا نگر جیسے علاقے سب سے سرد رہے، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22.7 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ کے تیسرے ہفتے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری سے نیچے رہنا گزشتہ پانچ سالوں میں پہلی بار ہے۔ مسلسل تیسرے دن بارش اور ژالہ باری کے اس دور نے نہ صرف ماہرینِ موسمیات کو حیران کیا ہے، بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی یہ غیر معمولی صورتحال بن گئی ہے۔
ریاست میں محکمہ موسمیات نے کئی اضلاع کے لیے اورینج اور یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ جے پور، اجمیر، ناگور، سیکر، ٹونک، جھنجھنو، الور اور دوسہ میں تیز بارش، آندھی اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وہیں دیگر اضلاع میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش اور 50-40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوا چلنے کا اندازہ ہے۔
اس بے موسم بارش اور ژالہ باری نے کسانوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ زیرہ اور ایسبگول جیسی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جہاں زیرے کی تقریباً 50 فیصد اور ایسبگول کی 80 فیصد تک فصل خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تیز ہواوں کی وجہ سے گیہوں اور سرسوں کی فصل بھی کھیتوں میں بچھ گئی ہے، جس سے پیداوار پر اثر پڑ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ ویسٹرن ڈسٹربنس 21 مارچ تک سرگرم رہے گا اور اس کے اثر سے ریاست کے کئی حصوں میں بارش اور آندھی کا دور جاری رہ سکتا ہے۔ ایسے میں فی الحال ریاست کے باشندوں کو ٹھنڈک اور موسم کی غیر یقینی صورتحال دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن