
بجنور، 20 مارچ (ہ س)۔ اتر پردیش کے بجنور ضلع کے نجیب آباد تھانہ علاقے میں کٹو کا آٹا کھانے سے 10 لوگ فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو گئے ۔ تمام متاثرہ افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ یہ واقعہ 19 اور 20 مارچ کی درمیانی شب 12 بجے کے قریب پیش آیا۔
منڈاولی تھانے کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے میں، لوگوں کو کٹو کا آٹا کھانے کے بعد الٹی اور فوڈ پوائزننگ کی علامات محسوس ہوئیں۔ متاثرین میں جے پرکاش (45)، اس کا بیٹا روہت (15)، اور بیٹی پریتی (19) شامل ہیں، جنہوں نے کٹو کے آٹے کے پکوڑے کھائے تھے۔
ان تینوں کا علاج اوم چودھری اسپتال منڈاولی میں کیا جا رہا ہے۔ اسی اسپتال میں ہرے ولی کی رہائشی سپنا (25) بھی زیر علاج ہے جو کہ کٹوکے آٹے سے بنی ہوئی پوریاں کھانے کے بعد بیمار ہو گئی تھی۔ فی الحال سبھی کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
گاوں سکروڑا کے انش (17)، چاندنی (36)اور راجندر کی چار بیٹیاں - امولی (13)، شردھا (10)، انامیکا (14) اور سلونی (14) - اور کلپنا (رام کمار کی بیوی) بھی کٹو کا آٹا کھانے سے بیمار ہوگئیں۔ انہیں ایمبولینس کے ذریعے سی ایچ سی سمی پور، نجیب آباد بھیجا گیا۔
کچھ دوسرے لوگ بھی لائف لائن اسپتال اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹر سمی پور میں زیر علاج ہیں۔
متاثرین نے بتایا کہ انہوں نے یہ آٹا نجیب آباد میں’ موٹے عام میں واقع گاندھی کی دکان‘ سے آٹا خریدا تھا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی محکمہ خوراک کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی، متاثرین سے ملاقات کی اور مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ منڈاولی پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم بھی جائے وقوعہ پر موجود تھی۔
اسٹیشن ہاو¿س آفیسر منڈاولی راکیش کمار نے بتایا کہ اس سلسلے میں شکایت موصول ہوتے ہی ملزم دکاندار کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال، ضلع میں کٹو کے آٹے کے استعمال کی وجہ سے فوڈ پوائزننگ کے کئی معاملے سامنے آئے تھے۔ اس کا ذمہ دار محکمہ خوراک کی بے توجہی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد