جموں و کشمیر میں دریاؤں کے کنارے قصبوں میں روانہ شام کی آرتی کا اہتمام کیا جائے ۔ایل جی
جموں, 19 مارچ (ہ س)جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جموں ڈویژن کے دریاؤں کے کنارے واقع قصبوں اور دیہات میں مقامی برادریوں کے تعاون سے روزانہ یا ہفتہ وار شام کی آرتی کا اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آرتی کے چراغو
Lg


جموں, 19 مارچ (ہ س)جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جموں ڈویژن کے دریاؤں کے کنارے واقع قصبوں اور دیہات میں مقامی برادریوں کے تعاون سے روزانہ یا ہفتہ وار شام کی آرتی کا اہتمام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آرتی کے چراغوں کی روشنی معاشرے کو ہماری قدیم اور عظیم ثقافت کی طرف بیدار کرے گی اور نئی نسل کو صحیفوں کی تعلیمات سے جوڑے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے رگھوناتھ مندر میں ‘شری رگھوناتھ جی کی جموں آرتی سنستھا’ کے زیر اہتمام منعقدہ آرتی میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منفرد جموں آرتی ناری شکتی اور اردھناریشور کے فلسفے کی عکاسی کرتی ہے اور تمام مخلوقات کے لیے خدائی رحمت کی دعا ہے۔انہوں نے کہا کہ شام کی آرتی روحانی نظم و ضبط کا ایک اہم ذریعہ ہے جو انسان کو اپنے وجود کے اصل مقصد کی طرف متوجہ کرتی ہے اور شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ تیز رفتار زندگی میں ایسے روحانی لمحات کی اشد ضرورت ہے جو انسان کو اپنے اندر موجود قیمتی خزانے کا احساس دلائیں، اور جموں آرتی اس حوالے سے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں، جسے مندروں کا شہر کہا جاتا ہے،عالمی سطح پر روحانیت کے مرکز اور مذہبی سیاحت کی اہم منزل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس طرح کی تقریبات سے نہ صرف عقیدت مندوں کو اس مقدس سرزمین کی روحانی فضا کا تجربہ ہوگا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس قیمتی روحانی ورثے کو سمجھیں اور اسے اپنائیں، کیونکہ یہ دولت یا عہدے کی نہیں بلکہ اندرونی شعور اور سکون کی میراث ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande