
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ ڈیزل جنریٹر سیٹ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ونڈ پاور بزنس میں بھی کام شروع کرنے والی کمپنی پاوریکا لمیٹڈ نے اپنے آئی پی او کی لانچنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کا 1,100 کروڑ روپے کا آئی پی او 24 مارچ کو کھلے گا۔ اس آئی پی او میں سرمایہ کار 27 مارچ تک بولی لگا سکیں گے۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 30 مارچ کو شیئروں کی الاٹمنٹ کی جائے گی، جبکہ ایک اپریل کو الاٹ شدہ شیئر ڈی میٹ اکاونٹ میں کریڈٹ کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے شیئر 2 اپریل کو بی ایس ای اور این ایس ای پر لسٹ ہو سکتے ہیں۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 375 روپے سے لے کر 395 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 37 شیئر کا ہے۔ اس آئی پی او میں ریٹیل انویسٹرز کم از کم 1 لاٹ یعنی 37 شیئروں کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,615 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح ریٹیل انویسٹر 1,89,995 روپے کی سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ 13 لاٹ میں 481 شیئروں کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت 5 روپے فیس ویلیو والے کل 2,78,48,100 شیئر جاری ہو رہے ہیں۔ ان میں 700 کروڑ روپے کے 1,77,21,518 نئے شیئر اور 400 کروڑ روپے کے 1,01,26,582 شیئر آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کئے جا رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 فیصد حصہ محفوظ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریٹیل انویسٹرز کے لیے کم از کم 35 فیصد حصہ اور نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے کم از کم 15 فیصد حصہ محفوظ ہے۔ اس ایشو کے لیے آئی سی آئی سی آئی سیکیورٹیز لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ منیجر بنایا گیا ہے، جبکہ ایم یو جی ایف ان ٹائم انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار بنایا گیا ہے۔
کمپنی کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپیٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پروسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت میں معمولی اتار چڑھاو ہوتا رہا ہے۔ مالی سال 23-2022 میں کمپنی کو 106.45 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 24-2023 میں بڑھ کر 226.11 کروڑ روپے اور مالی سال 25-2024 میں گھٹ کر 175.83 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال میں اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک کمپنی کو 134.55 کروڑ روپے کا خالص منافع ہو چکا ہے۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی معمولی اتار چڑھاو ہوتا رہا۔ مالی سال 23-2022 میں اسے 2,422.42 کروڑ کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 24-2023 میں گھٹ کر 2,356.77 کروڑ اور مالی سال 25-2024 میں اچھل کر 2,710.93 کروڑ روپے کی سطح پر آگئی۔ موجودہ مالی سال میں اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک کمپنی کو 1,474.87 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہو چکی ہے۔
اس مدت میں کمپنی پر قرض کے بوجھ میں بھی اتار چڑھاو ہوتا رہا۔ مالی سال 23-2022 کے اختتام پر کمپنی پر 278.88 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 24-2023 میں کم ہو کر 177.52 کروڑ روپے اور مالی سال 25-2024 میں اچھل کر 300.80 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ موجودہ مالی سال میں اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک کمپنی پر لدے قرض کا بوجھ 571.95 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا ہے۔
اس مدت میں کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 23-2022 میں یہ 777.88 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 24-2023 میں بڑھ کر 898.67 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 1,070.95 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ وہیں موجودہ مالی سال میں اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک یہ 1,158.99 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچا ہوا ہے۔
کمپنی کے ارننگ بیفور انٹرسٹ، ٹیکسیز، ڈیپریشی ایشنز اینڈ امورٹائزیشن (ای بی آئی ٹی ڈی اے) کی بات کریں تو 23-2022 میں یہ 333.21 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 24-2023 میں بڑھ کر 362.45 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے گھٹ کر 345.66 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ وہیں موجودہ مالی سال میں 30 ستمبر 2025 تک یہ 220.42 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن