شیئر بازار میں ایپسس ایروکوم کی زوردار انٹری، پریمیم لسٹنگ کے بعد لگا اپر سرکٹ
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ ایرو اسپیس انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی ایپسس ایروکوم کے شیئروں نے آج شیئر مارکیٹ میں زوردار انٹری کر کے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر 110 روپے کے بھاو پر جاری کیے
علامتی تصویر


نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ ایرو اسپیس انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی ایپسس ایروکوم کے شیئروں نے آج شیئر مارکیٹ میں زوردار انٹری کر کے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر 110 روپے کے بھاو پر جاری کیے گئے تھے۔ آج این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 43 روپے کے پریمیم یعنی 39.09 فیصد پریمیم کے ساتھ 153 روپے کی سطح پر ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد خریداری کی حمایت ملنے کی وجہ سے یہ شیئر تھوڑی ہی دیر میں اچھل کر 160.65 روپے کے اپر سرکٹ لیول پر پہنچ گیا۔ اس طرح پہلے دن کے کاروبار میں ہی کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر 50.65 روپے یعنی 46.05 فیصد کا منافع ہو گیا۔

ایپسس ایروکوم کا 35.77 کروڑ روپے کا آئی پی او 11 مارچ سے 13 مارچ کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست رسپانس ملا تھا، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پر 129.33 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ ان میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے محفوظ حصہ 99.96 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ وہیں نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے محفوظ حصے میں 236.61 گنا سبسکرپشن آئی تھی۔ اسی طرح ریٹیل انویسٹرز کے لیے محفوظ حصہ 100.24 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے فیس ویلیو والے 32.52 لاکھ نئے شیئر جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او کے ذریعے جمع کی گئی رقم کا استعمال کمپنی پلانٹ اور مشینری خریدنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد میں کرے گی۔

کمپنی کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپیٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پروسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 23-2022 میں کمپنی کو 1.03 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 24-2023 میں بڑھ کر 2.55 کروڑ روپے اور مالی سال 25-2024 میں اچھل کر 6.64 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک کمپنی کو 3.12 کروڑ روپے کا خالص منافع ہو چکا ہے۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 23-2022 میں اسے 10.41 کروڑ کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 24-2023 میں بڑھ کر 16.88 کروڑ اور مالی سال 25-2024 میں اچھل کر 20.57 کروڑ روپے کی سطح پر آگئی۔ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک کمپنی کو 13.70 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہو چکی ہے۔

اس مدت میں کمپنی پر قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاو ہوتا رہا۔ مالی سال 23-2022 کے اختتام پر کمپنی پر 2.07 کروڑ روپے کے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 24-2023 میں کم ہو کر 1.32 کروڑ روپے اور مالی سال 25-2024 میں اچھل کر 2.84 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 کی بات کریں، تو اس دوران کمپنی پر لدے قرض کا بوجھ 2.33 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔

اس مدت میں کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 23-2022 میں یہ 40 لاکھ روپے کی سطح پر تھا، جو 24-2023 میں بڑھ کر 2.95 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 9.59 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ وہیں موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک یہ 4.89 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

اسی طرح ارننگ بیفور انٹرسٹ، ٹیکسیز، ڈیپریشی ایشنز اینڈ امورٹائزیشن (ای بی آئی ٹی ڈی اے) 23-2022 میں 1.93 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 24-2023 میں بڑھ کر 4.10 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 10.20 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ وہیں موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی یعنی اپریل سے 30 ستمبر 2025 تک یہ 4.78 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande