
طلبہ سیاست سے سرگرم رہے سنجے بھاٹیا لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں آواز بلند کریں گے
چنڈی گڑھ، 17 مارچ (ہ س)۔ ہریانہ سے راجیہ سبھا جانے والے بی جے پی لیڈر سنجے بھاٹیا طویل عرصے سے بی جے پی کی تنظیم میں سرگرم عہدوں پر رہے ہیں۔ ہریانہ بی جے پی میں یووا مورچہ سے لے کر پارٹی کی مختلف ذمہ داریوں کو کامیابی سے ادا کرتے ہوئے فی الحال سنجے بھاٹیا مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا کام دیکھ رہے ہیں۔
پانی پت میں 29 جولائی 1967 کو پیدا ہونے والے سنجے بھاٹیا نے طالب علمی کے دور سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے طلبہ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے منسلک ہو کر تنظیمی کام شروع کیا۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہوا، جب وہ 1987 میں منڈل جنرل سکریٹری بنے اور 1989 میں منڈل صدر کا عہدہ سنبھالا۔
اس کے بعد انہوں نے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ میں اہم کردار ادا کیے۔ ضلع جنرل سکریٹری، ضلع صدر اور 1998 میں ریاستی جنرل سکریٹری تک کا سفر طے کیا۔ 2001 میں انہیں میونسپل کونسل کا چیئرمین بنایا گیا، جو ان کی مقبولیت اور تنظیم میں سرگرمی کا ثبوت تھا۔
بی جے پی میں وہ منڈل صدر، ضلع جنرل سکریٹری، ضلع صدر، لوکل باڈیز سیل کے ریاستی کنوینر اور کسان مورچہ کے ریاستی ایگزیکٹو ممبر جیسے عہدوں پر رہے۔ 2015 سے 2021 تک وہ بی جے پی ہریانہ کے ریاستی جنرل سکریٹری رہے اور ہریانہ کھادی اور گرام ادیوگ بورڈ کے سابق چیئرمین کے طور پر دیہی ترقی اور خود روزگار کو فروغ دینے میں تعاون دیا۔
ان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں سامنے آئی، جب وہ پہلی بار انتخاب لڑتے ہوئے کرنال لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ 2024 میں انہوں نے پارٹی کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے سیٹ چھوڑی اور تنظیمی ذمہ داریاں نبھائیں، جس میں ہریانہ اسمبلی انتخابات میں اہم کردار شامل تھا۔ حال ہی میں بی جے پی نے انہیں راجیہ سبھا کے لیے امیدوار بنایا اور وہ آج انتخاب جیت کر راجیہ سبھا پہنچ گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن