سونم وانگچک کی رہائی کے بعد لیہہ اور کرگل میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں
سونم وانگچک کی رہائی کے بعد لیہہ اور کرگل میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جموں، 17 مارچ (ہ س)۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی رہائی کے دو دن بعد لیہہ اور کرگل میں بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ یہ مظاہرے مختلف تنظیموں کی جانب سے دی گئی
سونم وانگچک کی رہائی کے بعد لیہہ اور کرگل میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں


سونم وانگچک کی رہائی کے بعد لیہہ اور کرگل میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں

جموں، 17 مارچ (ہ س)۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی رہائی کے دو دن بعد لیہہ اور کرگل میں بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ یہ مظاہرے مختلف تنظیموں کی جانب سے دی گئی کال پر منعقد کیے گئے، جن کا مقصد مرکز پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ ریاست کا درجہ دینے اور لداخ کو چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبات پر جلد مذاکرات بحال کرے۔ ادھر کرگل اور ملحقہ دراس علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی، جبکہ احتجاج کے پیش نظر پورے لداخ میں سیکورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ یہ احتجاج لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی قیادت میں کیا گیا، جو گزشتہ پانچ برس سے اس تحریک کی سربراہی کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق کسی بھی جگہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔یہ ستمبر میں احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات کے بعد ایل اے بی کی پہلی بڑی ریلی تھی۔ یہ پیش رفت سونم وانگچک کی تقریباً چھ ماہ بعد رہائی کے دو دن بعد سامنے آئی، جنہیں نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ ایل اے بی اور کے ڈی اے نے وانگچک کی رہائی سے قبل ہی احتجاج کی کال دی تھی تاکہ مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور شروع کیا جا سکے، جیسا کہ ہائی پاورڈ کمیٹی کے اجلاس میں وعدہ کیا گیا تھا۔ مذاکرات کا آخری دور 4 فروری کو منعقد ہوا تھا، جس میں دونوں گروپوں نے سونم وانگچک سمیت 70 دیگر زیر حراست افراد کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔لداخ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مکیش سنگھ نے لیہہ کے سنگے نمگیال چوک کا دورہ کر کے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، جہاں اضافی پولیس اور سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ درجے کی قیادت میں مظاہرین نے سنگے نمگیال چوک سے مارچ شروع کیا اور لیہہ پولو گراؤنڈ تک پہنچے۔ اس دوران خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی اور مظاہرین ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ شرکاء گزشتہ سال ستمبر میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے چار افراد کی تصاویر بھی اٹھائے ہوئے تھے۔کرگل میں بھی اسی نوعیت کی ریلی نکالی گئی، جہاں کے ڈی اے کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی، رکن پارلیمنٹ حنیفہ جان اور سماجی کارکن سجاد کرگلی نے اجتماع سے خطاب کیا۔

مقررین نے ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبات کو دہرایا، ساتھ ہی دو قید کارکنوں کی رہائی اور گزشتہ سال کے تشدد سے متعلق مقدمات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

چیرنگ درجے نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمام تر پابندیوں کے باوجود لوگوں نے پُرامن احتجاج کر کے مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے اس ریلی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی بھرپور حمایت ایل اے بی اور کے ڈی اے کے ساتھ ہے۔واضح رہے کہ سونم وانگچک کو گزشتہ ستمبر میں مبینہ طور پر احتجاج کے دوران تشدد بھڑکانے کے الزام میں نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، تاہم مرکز نے ہفتہ کے روز ان کی رہائی کا اعلان کیا تاکہ تمام فریقین کے ساتھ بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande