حتمی ووٹر لسٹ میں 60 لاکھ بنگلہ دیش سے متصل اضلاع کے افراد
کولکاتہ، یکم مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال میں ہفتہ کی شام الیکشن کمیشن نے ریاست کی حتمی ووٹر لسٹ جاری کی۔ خصوصی گہرے جائزے کے بعد سامنے آئے اعداد و شمار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ریاست میں ووٹروں کی شفافیت کو لے کر ایک بے مثال مہم چلائی گئی۔ اس نئی فہرست
چیف الیکشن افسر منوج اگروال دیگر افسران کے ساتھ۔


کولکاتہ، یکم مارچ (ہ س)۔ مغربی بنگال میں ہفتہ کی شام الیکشن کمیشن نے ریاست کی حتمی ووٹر لسٹ جاری کی۔ خصوصی گہرے جائزے کے بعد سامنے آئے اعداد و شمار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ریاست میں ووٹروں کی شفافیت کو لے کر ایک بے مثال مہم چلائی گئی۔ اس نئی فہرست کے سب سے چونکا دینے والے اعداد و شمار ’’انڈر ایڈجوڈیکیشن‘‘ یعنی زیرِ غور زمرے سے نکل کر آئے ہیں، جس میں ریاست کے تقریباً 60 لاکھ 6 ہزار 675 ووٹروں کو مشتبہ مانتے ہوئے ان کے حقِ رائے دہی کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ ان ووٹروں کی شہریت اور دستاویزات کی درستی اب عدالتی کارروائی کے ماتحت ہے۔ ان کا نام ووٹر لسٹ میں رہے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہائی کورٹ کا جوڈیشل بنچ کرے گا۔ اس کی سماعت مسلسل چل رہی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریاست میں انتخابات کے اعلان سے قبل یہ عمل پورا کر لیا جائے گا۔

اس پوری رپورٹ کا تجزیہ کرنے پر جو سب سے اہم حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے، وہ مشتبہ ووٹروں کا جغرافیائی مرکز ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ مشتبہ ووٹروں کا سب سے بڑا اجتماع ان اضلاع میں ہے جن کی سرحدیں براہ راست بنگلہ دیش سے متصل ہیں۔ ان علاقوں میں طویل عرصے سے غیر قانونی دراندازی اور ووٹر لسٹوں میں ہیر پھیر کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے بہاو میں دیکھیں تو مرشد آباد ضلع اس فہرست میں سب سے اوپر ہے، جہاں اکیلے 11 لاکھ ایک ہزار 145 ووٹروں کے نام مشتبہ ملے ہیں۔ یہ تعداد پوری ریاست کے مشتبہ معاملات کا تقریباً 18 فیصد حصہ ہے، جو ضلع سطح پر ایک بہت بڑی بے ضابطگی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ وہی ضلع ہے جہاں ہندوؤں کے ساتھ گزشتہ دو سالوں سے مسلسل تشدد ہوتا رہا ہے اور اس ضلع میں تقریباً 70 فیصد مسلم آبادی ہے اور مقامی بنگالی برادری گھٹ کر تقریباً 30 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔

مرشد آباد کے ٹھیک بعد مالدہ ضلع کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک اور حساس بنی ہوئی ہے۔ مالدہ میں آٹھ لاکھ 28 ہزار 127 ووٹروں کو مشتبہ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ضلع کی کل آبادی اور رقبے کے تناسب میں مالدہ میں مشتبہ افراد کی یہ تعداد ریاست میں سب سے زیادہ موثر مانی جا رہی ہے۔ اسی طرح جنوبی بنگال کی اسٹریٹجک اور سرحدی اہمیت والے ضلع شمالی 24 پرگنہ میں پانچ لاکھ 91 ہزار 252 ووٹر تفتیش کے دائرے میں ہیں، جبکہ جنوبی 24 پرگنہ میں بھی پانچ لاکھ 22 ہزار سے زائد ناموں کو ’’ہولڈ‘‘ پر رکھا گیا ہے۔ ان چار اہم سرحدی اضلاع مرشد آباد، مالدہ، شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ کو ملا کر ہی کل مشتبہ افراد کا تقریباً 50 فیصد حصہ بن جاتا ہے، جو یہ اشارہ دیتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کی جڑیں بنیادی طور پر بین الاقوامی سرحد کے قریب ہی گہری ہیں۔

اس کے برعکس، جب ہم ریاست کے ان اضلاع کی طرف دیکھتے ہیں جو بین الاقوامی سرحدوں سے دور یا اندرونی علاقوں میں واقع ہیں، تو وہاں کی تصویر بالکل الگ نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر جھاڑگرام میں مشتبہ ووٹروں کی تعداد محض چھ ہزار 682 ہے اور کلمپونگ جیسے پہاڑی ضلع میں یہ اعداد و شمار محض چھ ہزار 790 تک ہی محدود ہے۔ سرحدی اور اندرونی اضلاع کے درمیان کا یہ بھاری فرق اس انتظامی چیلنج کو اجاگر کرتا ہے جس کا سامنا الیکشن کمیشن کو سرحد پار سے ہونے والی مشتبہ سرگرمیوں کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے۔ فی الحال ان تمام 60 لاکھ ووٹروں کی دستاویزات کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سیکڑوں جوڈیشل افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔ جب تک یہ افسران اپنی جانچ پوری کر کے ہری جھنڈی نہیں دے دیتے، تب تک ان ووٹروں کے نام مرکزی فہرست سے باہر رہیں گے اور وہ رائے دہی کے عمل میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande