ایران–اسرائیل تنازع پر اسدالدین اویسی کا سخت ردِعمل
حیدرآباد ، یکم مارچ (ہ س)۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پرمرکزی حکومت سے کڑے سوالات کیے ہیں۔اویسی نے کہا کہ اگراس وقت وزیرِاعظم کا طیارہ فضا میں ہوتااوراسی دوران ایسا حملہ ہوجاتا
ایران–اسرائیل تنازع پر اسدالدین اویسی کا سخت ردِعمل


حیدرآباد ، یکم مارچ (ہ س)۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پرمرکزی حکومت سے کڑے سوالات کیے ہیں۔اویسی نے کہا کہ اگراس وقت وزیرِاعظم کا طیارہ فضا میں ہوتااوراسی دوران ایسا حملہ ہوجاتاتواس کی ذمہ داری کس پرعائد ہوتی؟ انہوں نے کہاکہ وزیرِاعظم کوملک کویہ بتانا چاہیے کہ کیااسرائیلی وزیرِاعظم بینجامن نیتن یاہونے بھارت کوپہلے سے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل ایران پرحملہ کرنے جارہاہے یانہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اگرنیتن یاہو نے وزیرِاعظم کواس حملے کے بارے میں آگاہ کیا تھاتووزیرِاعظم کوفوری طورپراپنا دورہ منسوخ کرکے ملک واپس آ جانا چاہیے تھا۔اوراگراسرائیل نے بھارت کو یہ اطلاع نہیں دی کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے جا رہا ہے، تو یہ بھارت کے ساتھ دھوکہ ہے۔اسدالدین اویسی نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے وزیرِاعظم کے دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پرحملہ کیااورساتھ ہی غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس طرزِعمل سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،ایران کے ساتھ نہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس حملے سے بھارت کو آخر کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے؟ اویسی کا کہنا تھا کہ حکومت کواپنی خارجہ پالیسی پروضاحت دینی چاہیے تاکہ ملک اوردنیا میں بھارت کا مؤقف واضح ہو سکے۔۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande